گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 136 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 136

ہمیں بھی ان کے ساتھ شامل کر دیا گیا مگر ہمارا سیکشن جداگانہ طریق پر مصروف عمل رہا۔یہاں تک کہ جنرل ہیڈ کوارٹر دہلی نے ہماری کمپنی کو دوسری کمپنی میں مدغم کر دیا جس کمپنی کے ساتھ ہم نے اشتراک کیا اسمیں ایک انگریز لیفٹیننٹ تھے جنکا نام جان برین آرچرڈ تھا یہ پہلے ڈوگرہ رجمنٹ میں تھے اسکے بعد آئی اے اوسی میں متصل ہو گئے تھے۔یہ افسر ہر ہفتہ اپنے والد کو انگلینڈ چھ سات صفحہ کا ایک خط لکھا کرتے تھے جسمیں وہ ہندوستان کی تاریخ مرتب کیا کرتے تھے غالبا انکا ارادہ ہندوستان کی تاریخ شائع کرنیکا تھا جب ۱۹۴۴ء میں جاپانیوں نے اتحادیوں پر سخت حملہ کر دیا اور امفال کو گھیرے میں لے لیا ان ایام کی ایک شام کا ذکر ہے کہ میں گارڈ کمانڈر تھا لیفٹینٹ آرچرڈ اپنے بحر سے باہر نکلے میں نے انکو سلوٹ کیا اور ان سے کہا کہ میں نے سنا ہے آپ ہندوستان کی تاریخ لکھ رہے ہیں لیکن آپ کی تاریخ اس وقت تک نا مکمل رہے گی جب تک کہ آپ ہندوستان کی سر زمین پر ہونے والے اس اہم واقعہ کا ذکر نہ کریں انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ وہ واقعہ کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ مسیح نے عہد نامہ میں جو وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوا یعنی مسیح نے کہا تھا۔اس وقت تک انتظار کرو کہ میں دوبارہ آؤں۔لہذا مسیح ہندوستان کی سرزمین کے ایک گاؤں میں آگیا ہے آپ اس واقعہ کو اپنی تاریخ میں ضرور بیان کریں انہوں نے جواب دیا کہ اس وقت تو میں حاضری ( رول کال) پر جا رہا ہوں کیونکہ آج میں آفیسر آف دی ڈے ہوں پھر کسی وقت بات کروں گا۔کیونکہ آپ کی بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔اسکے بعد وہ شام کی رول کال سے فارغ ہو کر میرے پاس آئے اور انہوں نے بہت سے سوالات کئے انہوں نے احمد یہ لٹریچر پڑہنے میں اپنی دلچپسی بیان کی چونکہ اس وقت فوج میں تبلیغ منع تھی اور آج بھی ہے لہذا میں نے ان سے کہا کہ ہماری جماعت کے مبلغین میں سے