گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 71 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 71

انکساری که درج ذیل حدیث قدسی کتنی پیاری اور معنی خیز ہے : میرے مولیٰ کریم میں جب تک زندہ رہوں مجھے انکساری پر رکھنا جب میرا آخری وقت آئے تو میں منکسر ہوں اور روز قیامت میر اشمار منکسر لوگوں میں سے ہو (حدیث نبی پاک ﷺ) عاجزی اور فروتنی ایک بنیادی اخلاقی صفت ہے جس پر تمام منتقی اور پر ہیز گار لوگ بڑی حد تک کار فرما ہوتے ہیں۔یہ کمزوری کی علامت نہیں ہے بلکہ یہ روحانی طاقت اور بلوغت کا واضح نشان ہے۔قال الله تعالى في كتابه الكريم : ولا تمش فِي الارْضِ مَرَحًا ( سورة ٧ ا نمبر (۳۸) اور زمین پر اکڑ کر مت چل۔اسی طرح مسیح ابن مریم علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ جو شخص فروتنی سے زندگی گزارتا ہے اسکا شمار عظیم انسانوں میں ہو گا (لوقا ۱۴۔آیت ۱۱) غرور خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب کا موجب ہوتا ہے قرآن کریم میں مختلف سورتوں میں ایسے واقعات کا جگہہ جگہہ ذکر آیا ہے کہ کس طرح انسان اور مختلف قومیں غرور اور تکبر کے باعث مورد عذاب بن کر نیست و نابود ہو گئے ارشاد ہوتا ہے : وَلَقَد أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أَمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْ نَهُم بِا البَا سَاءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَهُم يَتَضَرِعُون ( الا نعام آیت (۴۳) اور ہم تجھے سے پہلی قوموں کی طرف (رسول) صبح چکے ہیں اور (ان رسولوں کے آنے کے بعد ) ہم نے انہیں (یعنی منکرین کو ) اس لئے مالی اور جسمانی تکلیفوں میں گرفتار کیا تھا کہ وہ بجز اختیار کریں۔حضرت نوع کی قوم کے لوگ تمسخر اور استہزا اور خدا کے پیغمبر کی انکار کی سزا کے باعث پانی کے سیلاب کے عذاب کا نشانہ بنے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں : وَاَعْرَقْنَا الذِينَ كَذَّبُوا بِا يُتِنَا إِنَّهُم كَانُوا قَومَا عَمِين (الاعراف ۷ آیت (۶۴) اور ہم نے ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا تھا غرق کر دیا۔وہ ایک اند ھی قوم تھے اسی طرح فرعون کے ماننے والے لوگ بھی حیرہ احمر میں تکبر و گستاخی اور سخت دلی