گلدستہ

by Other Authors

Page 24 of 127

گلدستہ — Page 24

۲۴ ماں۔جی ہاں یہ نبوی حج کے موقع پر ، افراد اسلام قبول کرنے کی نیت سے آئے ، آدھی رات کو وادی عقبہ میں جمع ہوئے۔آپ کے ساتھ آپ کے چا حضرت عباس تھے۔دوران گفتگو آنحضور صلی الہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کر جانے پر بھی بات ہوئی۔حضرت البراء بن معرور معزز بزرگ انصاری تھے بولے کہ ہم رسول اللہ کی زبان سے کچھ سننا چاہتے ہیں۔بچہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا فرمایا ؟ ماں۔آپ نے پہلے چند آیات کی تلاوت فرمائی پھر مختصراً السلام کا پیغام دیا۔پھر فرمایا اگر مجھے مدینہ آنے کی ضرورت پڑی تو اپنے عزیز رشتہ داروں کی طرح مجھ سے سلوک کرنا۔اس کا اجر خدا تعالیٰ دے گا۔انصاری بزرگ نے آپ کا ہاتھ تھام کہ کہا کہ ہم اپنی جانوں کی طرح آپ کی حفاظت کریں گے بپھر ان افراد نے بیعت کی۔آپؐ نے مدینہ والوں کی تربیت کے لئے بارہ نقیب مقرر فرمائے جن میں سے ہر ایک اپنے قبیلہ اور قوم پر نگران تھے۔یہ بیعت عقبی ثانیہ کہلاتی ہے۔اور اس کے بعد مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دے دی۔مکہ والے اسلام کو مدینہ میں پھیت دیکھ کر اور زیادہ بھڑکتے اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے تھے۔بچہ۔پیارے آقا نے کس طرح ہجرت کی۔ماں۔قدم قدم پر خدا تعالیٰ کی قدرت کا نظارا تھا۔مگر میں ابھی حضرت ابوبکر صدیاں سو حضرت علی اور آپ کے خاندان کے لوگ موجود تھے۔قریش مکہ کے زنہیں دارالندوہ میں جمع ہوئے اور آپ کو جان سے مارنے کے پروگرام بنے لگے۔بہت سی سنجاویز تھیں مگر آخر میں ابو جہل کی تجویز مانی گئی کہ ہر قبیلہ سے ایک نوجوان چنا جائے اور وہ سب رات کے وقت آپ کے گھر میں ایک