گلدستہ

by Other Authors

Page 75 of 127

گلدستہ — Page 75

وہاں ایک عجیب منظر دیکھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے خالی ہاتھ آنے والوں کو مدینہ والوں کا بھائی بھائی بنا رہے تھے سب کو بھائی بھائی بنا چکے تو سب نے دیکھا کہ حضرت علی رہ گئے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار سے حضرت علیؓ کی طرف دیکھا اور کہا۔علی کو میں اپنا بھائی بناتا ہوں۔“ حضرت علی مدینہ آکر بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پر ہی رہتے تھے ہجرت کو ڈیڑھ سال ہی ہوا تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بہت پیاری لاڈلی چاند سی بیٹی کی شادی حضرت علیؓ سے کر دی۔حضرت فاطمیانہ شہزادی تھیں اور حضرت علی شہزادے لیکن یہ شادی بہت سادگی سے ہوئی۔حضرت فاطمہ کو ان کے ابو امی نے ایک بستر ایک چادر دو چکیاں دوسٹی کے گھڑے ایک مشکیزہ اور ایک کڑی کا پیالہ جہیز میں دیا۔اور حضرت علی نے اپنا جنگی لباس بیچ کر حضرت فاطر کو مہر دیا۔یہ ایک طرح کا تحفہ ہوتا ہے جو دلہن کو دیا جاتا ہے۔پھر مدینہ کے ایک انصاری نے آپ کو ایک مکان دے دیا۔پھر حضرت علییؓ اپنی دلہن کے ساتھ اس مکان میں رہنے لگے۔اس مکان میں جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو بہت دعائیں دیتے دونوں آپ کو بہت پیارے تھے۔پھر اللہ جی نے ان کو بہت پیارے پیارے بچے تین بیٹے اور دو بیٹیاں دیں۔حضرت امام ح حضرت امام حسین حضرت زینب اور حضرت ام کلٹو ایک بیٹا چھوٹا ہی فوت ہوگیا تھا۔میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ حضرت علی کی طاقت کا حال بتاؤں گی جوں جوں حضرت علی نے بڑے ہوتے گئے آپ کا جسم خوب مضبوط ہوتا گیا۔آپ کے بازوں میں بہت طاقت تھی۔کشتی میں آپ سے کوئی نہ جیت سکتا گھوڑا دوڑاتے نیزہ بازی ، تیراندازی سب بہادری کے کاموں میں مکہ مدینہ میں آپ کا مقابلہ کوئی