گلدستہ — Page 17
16 جسم کی چربی پگھل کر اگ کو ٹھنڈا کر دیتی۔حضرت با مٹر کے خاندان کو ان دکھ دیا کہ ان کے بیٹے حضرت عامرض کے جو اس بگڑ گئے۔ان کی بیوی حضرت سمیہ کو ابو جہل نے ان کی ران میں نیزہ مار کر شہید کر دیا۔اسی طرح ہر خاندان اپنے رشتہ داروں کو جو مسلمان ہو جاتے تکلیفیں پہنچاتے۔کوئی چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دینا۔تو کوئی بھوکا پیاسا رکھتا۔کوئی زنجیروں سے باندھ کر اتنا ماز نا کہ خون پھوٹ پڑتا۔لیکن یہ جرات مند اور خدا سے محبت کرنے والے خوش نصیب لوگ اپنے ایمان پر قائم رہتے۔بچہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ظلم ہوتا تھا۔ماں۔دُکھ تو آپ کو بھی دیتے تھے۔گھر میں گندگی پھینک دیتے ، راستے میں کانٹے بچھاتے۔سر پر خاک ڈالتے سجدے کی حالت میں کمر پر اُونٹ کی اوجھڑی رکھ دیتے گلے میں پڑ ڈال کر گھونٹتے۔پھر مارتے ، دھکے دیتے۔مذاق اڑاتے۔جب آپ خدا کا پیغام سناتے تو شور مچانے لگتے۔پھر حضرت ابو طالب سے شکایت کی۔پہلے تو کہا کہ ہم تمھارے بھتیجے سے تنگ آگئے ہیں۔یہ ہمارے بنوں کو برا تھیلا کہتا ہے۔تم اس کو روک لو۔یا پھر ہم خود دیکھ لیں گے۔اس طرح وہ آپ کو بنو ہاشم اور بنو مطلب کی حمایت سے الگ کرنا چاہتے تھے۔لیکن حضرت ابو طالب نے ان کی بات نہ مانی دن بہ دن اسلام کو پھیلتا دیکھ کر انہوں نے ایک کوشش اور کی۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت ابو طالب سے کہا کہ محمدؐ سے کہو کہ اگر وہ امیر بننا چاہتا ہے تو ہم دولت جمع کر دیتے ہیں۔سرداری چاہتا ہے تو ہم سب اس کو سردار مان لیتے ہیں۔اگر خوبصورت عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے تو عرب کی حسین ترین لڑکی لا دیتے ہیں۔اور اگر بیمار ہے تو علاج کروا دیتے ہیں۔لیکن اس کو روک