گلدستہ — Page 118
UA لڑکے الگ لڑکوں میں کھیلیں۔جس طرح ہر عمر کا لباس الگ ہوتا ہے اس طرح ہر عمر کے شرم و حیا کے طریقے بھی الگ ہوتے ہیں۔بچہ مثلاً ماں۔مثلاً نہاتے اور لباس تبدیل کرتے وقت مکمل پڑے کا خیال رکھنا چاہیئے۔بچیاں اپنے بزرگوں، ماموں ، خالو ، پھوپھا، چا، تایا جیسے سب بزرگ رشتہ داروں اور طنے والوں کے سامنے تو جائیں مگر وقار کے ساتھ احترام کے پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے نظر نیچی رکھیں۔دوپیر یا ہو۔بچہ۔آواز نبھی نیچی رکھیں۔نہیں بچے، میانہ روی سے یعنی زیادہ نیچی نہ اونچی ، بات کرو تو صاف ایک ایک لفظ سمجھ آئے یہ نہیں کہ آدھا فقرہ سمجھ آجائے اور آدھا سننے کے لئے بار بار کیا کہا، کیا کہا کہنا پڑے۔احمدی بچتے بہادر ہوتے ہیں۔بات صاف بیچی اور اونچی آواز میں کرتے ہیں۔منہ بسور کے بات نہیں کرتے۔بات میں گستاخی کا رنگ نہ ہو مگر آواز اونچی ہو۔جو دیکھے وہ کہے کہ یہ اچھے خاندان اور اچھی جماعت کا بچپ ہے۔بچے۔ہم ان باتوں کا خیال رکھیں گے۔ماں خدا آپ کو عمل کرنے اور ہیں صحیح باتیں سمجھانے کی توفیق دے۔ایک حدیث ہمیشہ یا د رکھنا۔بے حیائی انسان کو بدنما بناتی ہے جبکہ جیا حسن اور خوب صورتی پیدا کرتی ہے۔"