گلدستہ — Page 114
۱۱۴ جائیں گے ہم جہاں بھی کہ جانا پڑے ہیں غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہیں اغیار کا بھی بڑھ اُٹھانا پڑے ہمیں اس زندگی سے موت ہی بہتر ہے اے خدا جس میں کہ تیرا نام چھپانا پڑے ہیں پھیلائیں گے صداقت اسلام کچھ بھی ہو جائیں گے ہم جہاں بھی کہ جانا پڑے ہیں محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار روئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہمین۔(کلام محمود)