گلدستہ

by Other Authors

Page 18 of 127

گلدستہ — Page 18

IA لو کہ وہ ہمارے بزرگوں کے دین کواور بتوں کو برا کہنے سے باز آجائے۔ورنہ اب ہم سب مل کر مقابلہ پر آجائیں گے۔حضرت ابو طالب نے یہ ساری بات آنحضور صلی الہ علی کل کو بائی اور کہاکہ میں اسی قوم کا مقابلہ نہیں کرسکتا یہ تم کو لاک کر دیں گے۔بچہ۔میں بناتا ہوں کہ آپ نے کیا جواب دیا۔آپ نے جواب دیا کہ اگر یہ بتاتا نے کیا دیا نے دیا میرے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسے پر سورج بھی رکھ دیں تو میں اس کام کو نہیں چھوڑ سکتا۔ابو طالب نے کہا کہ آپ اپنا کام جاری رکھیں۔میں خود دیکھ لوں گا۔اور آپ خدا کا پیغام پہنچانے میں مصروف رہے۔ماں۔پھر کچھ عرصہ بعد وہ ایک اور ترکیب لائے کہ ابوطالب تم اپنا بھتیجا ہمیں دے دو ہم ایک خوبصورت، دلیر، جوان عمارہ بن ولیدم کو دیتے ہیں که ساری زندگی تمھاری خدمت کرے گا۔تم اس کو بیٹا بنالو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں دے دو۔بچہ۔واہ محمد صل اللہ علیہ وسلم نہیں دے دو !ا تاکہ وہ انہیں ماریں پیٹیں اور اُن کے بیٹے کو حضرت ابو طالب کھلائیں پلائیں ، عیش کرائیں۔ماں حضرت ابو طالب نے یہی جواب دیا اس پر سارے سردار جن میں ولید بن مغیرہ عاص بن وائل ، عقبہ بن ربیعہ عمر بن ہشام ابو جہل اور ابوسفیاں شامل تھے بھڑک اٹھے کہ تم تو کوئی بات بھی نہیں مانتے۔اب ہم خود ہی دیکھ لیں گے۔انہوں نے اپنے اپنے قبیلہ کے مسلمانوں پر ظلم کی حد کر دی کہ یہ تنگ آکر محمد صلی الہ یہ ستم کا ساتھ چھوڑ دیں۔ادھر حضرت ابو طالب نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو بلا کر سارا ماجرا سنایا۔یہ سب آپ کی حفاظت اور مدد پر آمادہ تھے سوائے بدنصیب چھا ابو لہب کے جو ہمیشہ ہی کفار مکہ کا ساتھ دیتا رہا۔