گل

by Other Authors

Page 69 of 102

گل — Page 69

69 جنگ اُحد میں مسلمانوں کو تھوڑی دیر کیلئے بہت پریشانی آئی۔کسی نے جھوٹی خبر اڑا دی کہ آنحضور شہید ہو گئے ہیں۔دشمنوں نے سنا تو بہت خوش ہوئے۔مسلمانوں کا بُرا حال تھا اتنے میں آنحضور زندہ سلامت نظر آئے تو سب انکے گرد جمع ہو گئے۔دشمنوں میں سے کوئی پکارا، کیا تم میں کوئی محمد ہیں۔حضور نے جواب دینے سے منع فرمایا۔پھر دشمن چلایا کیا تم میں کوئی ابو بکر ہیں۔حضور نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔پھر دشمن نے کہا کیا تم میں عمر ہیں۔مسلمان چپ رہے۔دشمن سمجھا سب بڑے مسلمان مر گئے ہیں۔خوشی میں نعرہ لگایا ہمارا بت سب سے بڑا ہے۔اب آنحضور سے رہا نہ گیا حضرت عمر سے بولے جواب دو۔اس وقت حضرت عمر کی اونچی آواز گونجی۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ ہمیشہ زند ر ہنے والا ہے۔دشمن شرمندہ ہو گئے۔غزوہ تبوک کے موقع پر آنحضور کو مال کی ضرورت پڑی تو حضرت عمر نے اپنے مال کا آدھا حصہ لاکر آنحضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔حضرت عمرؓ کو آنحضور سے اس قدر محبت تھی کہ جب آپ فوت ہو گئے تو حضرت عمر جیسے عقلمند آدمی نے کہنا شروع کر دیا کہ جس نے کہا آنحضور فوت ہو گئے ہیں میں اُسے قتل کر دوں گا۔حضرت ابو بکر نے سمجھایا تو بات سمجھ میں آئی کہ آنحضور خدا کے پاس چلے گئے ہیں۔پھر سوال پیدا ہوا کہ آنحضور کا جانشین کون ہوگا۔کچھ جھگڑے کی صورت نظر آنے لگی تو حضرت عمر نے فرمایا۔چھوڑو اس جھگڑے کو ابو بکڑا اپنا ہاتھ بڑھائیے میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔پھر سارے مسلمانوں نے حضرت ابوبکر صدیق “ کے ہاتھ پر بعیت کر لی۔جب حضرت ابو بکر صدیق فوت ہوئے تو حضرت عمر خلیفہ بنے مسلمانوں کو ایک بہت انصاف کرنے والا اور نیک دل خلیفہ مل گیا جو غلط بات برداشت ہی نہیں کرتا تھا۔سب اُن سے ڈرتے تھے۔بہت سے ملکوں کو فتح کیا۔ہر جگہ اسلام کے قانون کو رواج دیا۔مہمان خانے بنوائے۔غریبوں ، بیواؤں کو