گل — Page 63
63 چٹانوں میں کیسے آرام ہوتا بس ذرا تھکن اُتار کر آگے چل دیئے۔آنحضور حضرت ابو بکر کی ران پر سر رکھ کر ذرا لیٹ گئے۔پرانی بند غارتھی کہیں سے ایک زہریلا کیڑا نکلا اور حضرت ابو بکر کے پاؤں پر کاٹ لیا۔حضرت ابو بکر کو سخت تکلیف ہوئی۔مگر حرکت کرتے تو آنحضور کی نیند خراب ہوتی۔درد کی شدت سے آنکھوں میں پانی آگیا۔جس کا ایک قطرہ گرا تو آنحضور نے حضرت ابوبکر کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ابوبکر کیا بات ہے“۔حضرت ابوبکر نے بتایا کسی کیڑے نے کاٹ لیا۔اللہ کے پیارے نبی نے اپنے منہ کا لعاب کیڑے کے کاٹے پر لگایا اور حضرت ابو بکر کو اُسی وقت آرام آگیا۔آنحضور کے دوست کو سب صدیق کہنے لگے۔صدیق کا مطلب ہوتا ہے دوست۔مدینہ میں جنگوں کی وجہ سے اکثر جنگی سامان کے لئے مال کی ضرورت ہوتی۔ایک دفعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی مدد دینے کو کہا۔حضرت عمر فاروق " ہر وقت اس خیال میں رہتے کہ قربانی میں سب سے آگے رہیں۔انہوں نے اپنا آدھا مال حضور کی خدمت میں پیش کر دیا اور سمجھ لیا۔کہ آج میں حضرت ابو بکڑ سے بڑھ جاؤں گا۔پھر حضرت ابوبکر صدیق اپنا سارا سامان لے کے آگئے۔آنحضور نے پوچھا ابوبکر گھر میں بھی کچھ چھوڑا ہے۔حضرت ابوبکر صدیق نے جواب دیا۔گھر میں اللہ اور رسول کا نام چھوڑا ہے۔" صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس" اسطرح حضرت ابو بکر سب سے آگے بڑھ گئے۔خدا تعالیٰ نے ان کے پیار کو اور مضبوط بنایا۔حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آنحضور تنہا رہ گئے تو حضرت ابو بکر نے اپنی چھوٹی سی عمر کی پیاری بیٹی عائشہ آنحضور کی خدمت میں پیش کر دی۔کہ آنحضور آپ عائشہ سے شادی کر لیں۔تاکہ آپ کی تنہائی اور بچوں کا اکیلا پن دور ہو جائے۔ایک دفعہ