گل — Page 80
80 ہے کہ یہ خط اُسی کی طرف سے ہے جس کی مہر لگی ہے۔آپ نے آنحضور کی کہانی میں پڑھا تھا کہ آپ نے بادشاہوں کو خط لکھے تو اپنے نام محمد رسول اللہ کی مہر بنوا کر ان پر لگائی یہ تو ظاہری نظر آنے والی مہر تھی مگر آپ کی ایک مہر ایسی ہے جو لگی ہوئی نظر نہیں آتی مگر آپ سے محبت کرنے والوں پر لگتی ہے کہ یہ بندہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔جو بندہ محبت کرے گا وہ رسول پاک کا نور حاصل کرے گا نور اور تو کہیں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔جیسے سورج کے علاوہ کہیں سے روشنی نہیں مل سکتی ہے۔اب یہ بندوں پر ہے وہ ستاروں جتنی روشنی حاصل کریں یا چاند جتنی ، جو سچا ہوگا اور آپ سے بے حد محبت کرے گا خدا تعالیٰ سے بے حد محبت کریگا۔اس کے ایمان پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگے گی وہ زیادہ روشنی حاصل کرے گا۔کیونکہ آپ صرف نبی اور رسول اور سراج منیر ہی نہیں تھے بلکہ اپنی روشنی پھیلانے والے تھے جو روشنی لے گا روشن ہو جائے گا۔اس سے آپ کی شان میں کمی نہیں آئے گی۔آئندہ کوئی شخص آنحضرت کی تصدیقی مہر کے بغیر روحانی درجہ حاصل نہیں کر سکتا ، وہی درجہ پا سکتا ہے۔جس نے آپ سے روشنی لی ہو۔آپ کا شاگرد ہو آپ کا خادم ہو۔لفظ خاتم کبھی کبھی 'ت کے نیچے زیر سے بھی پڑھا جاتا ہے۔جس کا مطلب ہے کسی چیز کی انتہا یا اونچا مرتبہ جس کے اوپر کوئی مرتبہ نہ ہو اس سے ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا پتا چلتا ہے۔جب کوئی مکمل شان کا ہوتا ہے تو اُس سے بڑا کوئی نہیں ہوتا۔اُس سے چھوٹا ہو سکتا ہے۔اب دیکھئے ہم کتنے خوش ہیں کہ ہم سب سے اونچی شان والے نبی کو ماننے ہیں۔بعض لوگ جو عربی نہیں سمجھتے اس لفظ کو اُردو یا پنجابی کا سمجھ کر یہ ترجمہ کر لیتے ہیں کہ آپ نبیوں کو ختم کرنے والے تھے۔یعنی آپ کے بعد کوئی نہیں آئے گا۔ایسا سوچنا بڑی گستاخی ہے۔سورج تو چمکتا رہے گا۔روشنی دیتارہے گا۔یہ سوچ لینا کہ سورج