گل

by Other Authors

Page 79 of 102

گل — Page 79

79 لئے جس طرح سورج پیدا کیا۔اسی طرح روحانی دنیا یعنی دین کی دنیا کا بھی ایک سورج بنایا ہے۔یہ سورج مرکز ہے یہ ہمارے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ان کے ارد گرد کئی گرے، سیارے یعنی نبی ہیں۔ایک لاکھ چوبیس ہزار تو ہم نے پڑھے ہیں جو ان سے روشنی لے کر آگے روشنی پہنچاتے ہیں۔یہ روشنی ہے ہدایت کی سچائی کی ، اچھائی کی ، اسی روشنی کو نور محمدی کہتے ہیں جس طرح ہم یہ جانتے ہیں کہ سارے سیارے سورج سے روشنی لیتے ہیں۔اسی طرح ہم کو علم ہو گیا کہ جہاں بھی خدا کی محبت کی روشنی ہے اُسی ایک روحانی سورج سے حاصل ہوئی ہے۔جس طرح ہم یہ جانتے ہیں کہ سورج چمکتا رہتا ہے۔ماند نہیں پڑتا یہ زمین ہے جو گھومتی ہے اور اُس کا جو حصہ سورج کے آگے ہوتا ہے روشنی حاصل کرتا ہے اور جو حصہ سورج سے اوجھل ہوتا ہے سورج سے روشنی حاصل نہیں کر سکتا۔ہاں چاند ستارے سورج سے روشنی حاصل کر کے اس حصے کو سورج کی روشنی پہنچاتے ہیں۔ہمیں علم ہے کہ چاند از خود روشن نہیں۔سورج کی روشنی سے روشن ہوتا ہے ہم جب سورج کے سامنے آئینہ رکھ دیں تو کتنی چمک پڑتی ہے۔بالکل سورج کی طرح مگر آئینہ سورج تو نہیں ہو جاتا۔سورج اس دنیا کا ہو یا روحانی دنیا کا سراج منیر اپنی تمام تر روشنی اپنی شان اور دوسروں کو روشنی ، طاقت اور گرمی دینے کے ساتھ ساتھ قائم رہتا ہے۔اس کی روشنی میں کسی دوسرے کے روشنی لینے سے کوئی کمی نہیں آتی۔روشنی ملے گی تو ایک ہی ذات سے جو جس قدر چاہے حاصل کر لے۔اب خاتم النبیین کی بات آپ کو سمجھا دوں۔قرآن پاک میں یہ لفظ ت پر زبر یعنی خاتم آیا ہے۔خاتم کا مطلب مہر ہے۔یہ میں آپ کو بتا چکی ہوں۔آپ نے مہریں دیکھی ہوں گی۔جب پرنسپل یا کوئی بڑا افسر کوئی خط لکھتا ہے تو اس پر دستخط کے ساتھ مہر لگاتا ہے جس سے اس خط کے متعلق یقینی علم ہو جاتا