گل

by Other Authors

Page 2 of 102

گل — Page 2

اچھی ماؤں کی نگرانی میں پرورش پانے والے بچے نہ صرف دن رات اپنی ماں کے نیک اعمال کے نظارے دیکھتے ہیں بلکہ جس طرح وہ اپنی ماں کے اعمال کو دیکھتے ہیں اسی طرح اُن کی ماں بھی شب و روز اُن کے اعمال کو دیکھتی ہے اور ہر خلاف اخلاق بات اور ہر خلاف شریعت حرکت پر اُن کو ٹوکتی اور شفقت و محبت کے الفاظ میں انہیں نصیحت کرتی رہتی ہے۔ماں کا یہ فعل جو اس کی اولاد کے لئے ایک دلکش وشیریں اوہ ہوتا ہے۔اور ماں کا یہ قول جو اُس کے بچوں کے کانوں میں شہد اور تریاق کے ارے بن کر اُترتا چلا جاتا ہے۔اُن کے گوشت پوست اور ہڈیوں تک میں سرایت کر لے اور اُن کے خون کا حصہ بن کر انہیں گویا ایک نیا جنم دے دیتا ہے۔کاش دنیا اس نات کو سمجھ لے۔قوموں کے لیڈر اس نکتہ کو سمجھ لیں۔خاندانوں کے بانی اس نکتہ کو سمجھ لیں۔گھر کا آقا اس نکتہ کو سمجھ لے۔بچوں کی ماں اس نکتہ کو سمجھ لے۔اور کاش بچے ہی ان مان لو مجھ لیں کہ اولاد کی تربیت کا بہترین آلہ ماں کی گود ہے۔پس اے احمدیت کی فضائیں سانس لینے والی بہنو اور بیلیو! اگر قوم کو تباہی کے گڑھے سے بچا کر قی کی شاہراہ کی طرف لے جاتا ہے تو سنو اور یا درکھو کہ اس نسخہ سے بڑھ کر کوئی نسخہ اں اب اپنی کو دوں کو نیکی کا گہوارہ بناؤ اپنی گوروں میں دو جو ہر پیدا کرو جو بدی مٹاتا اور نیلی کو پروان چڑھاتا ہے۔جو شیطان کو دُور بھگا تا اور انسان کو رحمن کی طرف اچھی مائیں از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ( احمدی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے )