غنچہ

by Other Authors

Page 52 of 76

غنچہ — Page 52

52 52 تو دا دا فوت ہو گئے۔اب یہ معصوم بچہ اپنے چچا ابو طالب کے گھر آ گیا۔چچا کو اس بچے کی پیاری عادتوں کی وجہ سے اپنے بچوں سے بھی زیادہ ان کا خیال رہتا۔ہر طرح خیال رکھتے حتی کہ سفر پر جانا پڑا تو ساتھ ہی لے کر گئے۔ایک سفر کا حال سنو یہ شام کا سفر تھا۔پیارے بچہ کی عمر اب بارہ سال تھی۔شام ایک ملک کا نام ہے۔وہاں ایک عیسائی پڑھے لکھے آدمی بحیرہ نے آپ کو دیکھ کر کہا کہ ایسے لگتا ہے یہی وہ بچہ ہے جو بڑا ہو کر بڑی شان والا ہوگا۔خدا تعالیٰ اس کی ہر طرح حفاظت خود کر رہا تھا۔عرب میں رواج تھا کہ شام کے وقت سب اکٹھے ہوتے تو طرح طرح کے جھوٹے قصے کہانیاں اور خراب خراب باتیں کرتے دو دفعہ ایسا ہوا کہ آپ ﷺ کے چا آپ ﷺ کو ساتھ لے کر گئے۔مگر دونوں دفعہ آپ کو نیند آگئی۔اور خدا تعالیٰ نے جھوٹی باتیں سننے سے آپ کو بچا لیا۔عرب کے لوگوں میں جھوٹی باتیں کرنے کے علاوہ اور بھی بہت سی گندی عادتیں تھیں جو خدا تعالی کو پسند نہیں تھیں۔ہمارے پیارے شہزادے محمد نے ایسی باتوں میں بھی حصہ نہ لیا۔ان کو ایسی خراب باتوں سے بہت نفرت تھی۔سب ملنے والے رشتہ دار، پڑوسی محلے والے جانتے تھے کہ یہ لڑکا جھوٹ نہیں بولتا، کچی بات کہتا ہے۔کسی کا مذاق نہیں اُڑاتا۔کوئی ایسی بات نہیں کرتا جس سے کسی کو تکلیف ہو۔کمزوروں ، بیماروں ، بوڑھوں کی مدد کرتا ہے۔اگر اس کے پاس کوئی چیز رکھو اؤ تو اُسی طرح واپس کر دیتا ہے ان باتوں کی وجہ سے سب آپ سے پیار کرتے ایک تو صورت پیاری پھر باتیں پیاری، عادتیں نیک اور اچھی۔مکہ کے لوگوں میں اس چاند کو بڑی عزت سے دیکھا جاتا۔پیارے بچو ،عرب میں بچے گھوڑے کی سواری کرنا، تیر چلانا بنشانہ بازی کرنا بچپن ہی میں سیکھ جاتے تھے۔کچھ بچے لکھنا پڑھنا بھی سیکھتے تھے۔پھر جب بڑے ہوتے تو جیسے کوئی آفس جاتا ہے۔کام پر جاتا ہے، پیسے لاتا ہے۔وہاں سب سے