غنچہ

by Other Authors

Page 59 of 76

غنچہ — Page 59

59 غلام مه حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام آج میں آپ کو ایک بہت بڑے انسان کی باتیں بتاؤں گی۔کچھ بڑے تو وہ ہوتے ہیں جو ٹی وی میں آتے ہیں ، اخباروں میں تصویر میں چھپتی ہیں۔یہ تو لوگوں کے سامنے بڑے ہوتے ہیں مگر میں آپ کو ایک ایسے بڑے آدمی کی باتیں بتاؤں گی جس کو خدا تعالیٰ بھی پسند کرتا ہے۔دوسرے بڑے آدمیوں کو کچھ عرصے کے بعد لوگ بھول جاتے ہیں۔مگر وہ انسان جسے خدا تعالیٰ پسند کرے ہمیشہ یاد کیا جاتا ہے۔آپ نے برصغیر کا نقشہ دیکھا ہے جہاں پنجاب کے ساتھ بھارت سے ہماری سرحدیں ملتی ہے وہاں ایک ضلع گورداسپور ہے۔گورداسپور میں ایک شہر قادیان ہے پہلے یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہوتا تھا۔اس گاؤں میں ایک خاندان مرزا مرتضی صاحب کا رہتا تھا۔وہ اس گاؤں اور اس کے ارد گرد کے کچھ اور دیہاتوں کے مالک تھے۔ان کی بیگم کا نام جراغ بی بی صاحبہ تھا ان کو اللہ پاک نے ایک چاند سا بیٹا دیا۔بچے تو اور بھی تھے مگر یہ بچہ بہت پیارا تھا اس کا نام انہوں نے غلام احمد رکھا۔بچہ پیارا تھا نام بھی پیارا۔اس نام کا مطلب ہے وہ حضرت محمد مصطفے احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہو گا۔اُس زمانے میں آج کل کی طرح بہت سکول نہ تھے۔امیر لوگ گھروں پر ٹیوٹر رکھ کر بچوں کو تعلیم دلاتے تھے۔اس بچے نے پہلے قرآن مجید پڑھا ، پھر عربی ، فارسی اور دوسرے مضامین فلسفہ ، حکمت، منطق وغیرہ اپنے استادوں سے گھر پر ہی پڑھے۔پڑھنے سے جب نئی نئی باتیں سیکھیں تو اتنی دلچسپی ہوئی کہ جس وقت دیکھو یہ بچہ ہے اور کتابیں تھوڑا بہت گھڑ سواری ، کبڈی وغیرہ کا شوق رہا۔مگر علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا اور پڑھنے کے لئے ان کا اپنا انداز تھا۔کمرے میں الگ خاموش تنہا بیٹھ کر پڑھتے۔اللہ تعالیٰ نے حافظہ ایسا دیا تھا کہ جو پڑھتے ذہن میں بیٹھ جانا توجہ سے پڑھتے تھے نا۔جو توجہ سے