غنچہ — Page 21
21 اذان بچھ۔نماز سے پہلے اذان کیوں ہوتی ہے؟ ماں۔پیارے آقا جب مدینہ تشریف لے آئے۔اور نمازوں کی رکعات مقرر ہو گئیں۔اس وقت سوال پیدا ہوا کہ جب نماز کا وقت ہو تو مسلمانوں کو کیسے اطلاع دی جائے۔اس سلسلہ میں پیارے آقا صحابہ کرام سے مشورہ لیتے رہے۔اُس زمانے میں یہودی آگ جلا کر اپنی عبادت کے وقت اطلاع دیتے تھے۔دوسرا طریقہ یہودیوں میں یہ تھا کہ میگھ کی شکل کا ایک آلہ تھا۔جس سے بڑی تیز آوا ز پھونک مارنے پر نکلتی تھی۔اُس آواز کو سن کر معلوم ہو جاتا تھا کہ عبادت کا وقت ہو گیا ہے۔اسی طرح عیسائی گھنٹیاں بجا کر یا ناقوس کے ذریعہ عبادت کے وقت کا اعلان کرتے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی طریقہ پیارے آقا کو پسند نہ آیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ایک صحابی کو خواب میں اذان کے الفاظ سنائے گئے۔ساتھ ہی اللہ میاں نے پیارے آقا کو یہی الفاظ بتائے۔جب حضرت عمر نے اپنا خواب سنایا۔تو آپ نے پسند فرمایا اور اسی طریقہ کو رائج کر دیا۔بچہ۔آپ مجھے اذان یاد کروا دیں۔ماں۔میں بتاتی جاتی ہوں آپ یاد کریں۔الله اكبر الله اكبر الله اكبرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ أَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ حَيَّ عَلَى الصَّلوة حَيَّ عَلَى الصَّلوة