مرزا غلام قادر احمد — Page 336
336 خاصہ تھے۔بسا اوقات بچوں کو پیدل ہی اسکول چھوڑ نے آتا تھا کبھی دیر ہو جاتی تو رکشے میں آتا ایک بار میں نے اس سے کہا کہ میاں صاحب کی گاڑی کیوں نہیں لے آتے تو کہنے لگا کہ بچوں کو پتا هونا چاهیے که وه ایک واقف زندگی باپ کے بچے ھیں۔کبھی کبھار رات کو میں نے اسے اپنے بچوں کے ساتھ باہر گھومتے بھی دیکھا بچوں سے اس کی بے تکلفی دیکھ کر اس کی اپنے بچوں سے والہانہ محبت کا اندازہ ہوتا تھا۔ایم ٹی اے پاکستان میں کمپیوٹر سیکشن کا آغاز ہوا تو ہم کمپیوٹر سے بالکل نابلد تھے ہمیں پل پل اس نے بتایا۔اکثر ہم اسے فون کرتے کہ میاں صاحب فلاں مسئلہ ہو گیا ہے اکثر تو ان کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کرنے سے مسئلہ حل ہو جاتا لیکن اگر ہم مسئلہ حل نہ کر سکتے تو قادر خود آجاتا اور پھر کمپیوٹر اس کے سامنے کھلونا بن جاتا اس کی اُنگلیاں کمپیوٹر کے کی بورڈ (Key Board) پر اس طرح کھیلتیں جس طرح کسی ماہر پیانیسٹ (Pianist) کی اُنگلیاں پیانو کے کی بورڈ پر کھیلتی ہیں اور لمحوں میں وہ کمپیوٹر پھر کام کرنے لگتا۔جب ایم ٹی اے کے لئے پروگرام کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو میں تجویز لے کر اس کے پاس گیا تو کہنے لگا کہ فضیل میں نے تو کبھی بھی لیکچر نہیں دیا اور پھر کیمرے کے آگے کافی دقت ہوگی، میرے لئے مشکل ہوگا۔میں نے کسی نہ کسی طرح اس کو قائل کر لیا تو پھر اس نے ایم ٹی اے کے لئے ایک ایسی سیریز شروع کی جو ہمیشہ ہی اس کی یادوں کو تازہ رکھے گی۔پوری محنت اور پیشہ وارنہ دیانت کے ساتھ اس نے اس کام کو کیا اور ” کمپیوٹر سب کے لئے کا آغاز ہمیشہ کے لئے اس کے نام لگ گیا۔