مرزا غلام قادر احمد — Page 88
88 لطف کی بات یہ ہوئی کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود کی الہامات کی 66 کا پی دیکھی تو آپ کے دست مبارک سے لکھا ہوا الہام یوں ہے۔غلام قادر آگئے گھر نور اور برکت سے بھر گیا رَدَّ اللهُ إِلَيَّ“ آئے اور آ گئے سے مفہوم میں انتظار کی کیفیت شامل ہو جاتی ہے۔جس کا انتظار تھا وہ بیٹا مل گیا تو عاجزانہ دُعاؤں کا رُخ یہ ہو گیا کہ خدایا وہ بیٹا مل گیا جس کا انتظار تھا۔اب یہ حضرت اقدس کی دعاؤں کا حقیقی مصداق ہو۔قادر کی امی نے بتایا کہ وو یہ ایک خوبصورت شاندار ماتھے والا بچہ تھا۔آج نہیں، اُس وقت بھی میں کہتی تھی اس کے ماتھے پر عجیب شان تھی۔یہ میرا چوتھا بچہ تھا مگر پیدا ہوتے ہی اور کسی کے ایسی شان نہ تھی۔بالوں اور چہرے کے رنگ کا خوبصورت امتزاج، گلابی رنگت، خوبصورت نقش۔امی کے ساتھ زیورخ کی بیت کی بنیاد رکھنے گئے۔قادر چھ ماہ کا تھا۔وہاں لوگ کہتے تھے یہ خلیفہ ثانی سے ملتا ہے، ان کا کیا لگتا ہے؟ مجھے آج تک بچپن کا کوئی واقعہ بھی یاد نہیں کہ کوئی ضد یا بُری حرکت کی ہو۔شرمیلی سی مسکراہٹ سے فرمائش کر دیتا۔“ قادر تین سال کا تھا جب ایئر پورٹ پر اپنے ابا کولندن جاتے ہوئے دیکھ کر پلک پلک کر رونے لگا۔جہاز اُڑا تو ہاتھ اُوپر اُٹھاتے ہوئے کہنے لگا۔میں ساتھ جاؤں گا، میں ساتھ جاؤں گا خالہ نے دیکھا تو بے اختیار کہا کہ میں ہوتی تو اتنا خوبصورت بیٹا روتا چھوڑ کر کبھی نہ جاتی۔قادر اور اس کی بہن اوپر تلے کے تھے۔سال بھر کا فرق تھا۔آپس میں پیار بھی بہت تھا اور لڑائی بھی ہوتی تھی۔غالباً چار سال کا ہو گا متلاتا بہت تھا۔ایک دفعہ بہن نے کوئی چیز دے کر واپس لے لی۔بچے کو بہت صدمہ ہوا