مرزا غلام قادر احمد — Page 73
73 بھی دعا یاد نہیں جو میں نے اس تڑپ سے کی ہو جیسا کہ یہ دعا کہ میری نسل سے حضرت مسیح موعود کے وارث پیدا ہوں اور میں خواتین مبارکہ میں شامل ہو جاؤں۔مجھے اس وقت خواتین مبارکہ کا مفہوم بھی پتہ نہیں ہو گا مگر حضرت اقدس کے الفاظ پڑھ کر یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی خواتین مبارکہ میں شامل ہوں۔یہ دعائیں میں معمولی انداز میں نہیں مانگتی تھی بلکہ میں نے خود کو دعا کے لئے وقف کر دیا تھا۔صرف سجدوں میں ہی نہیں مانگتی تھی بلکہ ہر وقت ذکر الہی اور درود شریف وردِ زبان رہتا۔ایک دفعہ تو میرا مذاق بھی بن گیا تھا۔ملازمہ کو آواز دینا تھی مگر اُس کا نام پکارنے کی بجائے منہ سے نکلا سبحان اللہ۔کیونکہ یہ پاک ذکر وردِ زبان تھا۔اتنی گریہ و زاری کرتی تھی کہ میری آنکھوں کے نیچے نرم حصے پر آبلے ابل آتے تھے۔ایک عجیب کیفیت تھی جو میں بیان نہیں کر سکتی۔اسکول جاتے ہوئے راستے سے کانٹے اور شیشے وغیرہ ہٹاتی تھی۔رات کو میرے پاس ملازمہ کی بچی سویا کرتی تھی اکثر اُٹھ اُٹھ کر اس پر رضائی ٹھیک کرتی۔میں سوچتی اللہ تعالیٰ ذرہ نواز ہے شاید کوئی عمل پسند آ جائے۔مجھے مکہ ، مدینہ میں بھی تڑپ تڑپ کر خدا تعالیٰ بھیک مانگنا یاد ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے قبولیت دعا کی بشارتیں بھی عطا فرماتا تھا۔ایک دفعہ رتن باغ میں میں تہجد کی نماز پڑھ رہی تھی۔میری عمر اُس وقت ہیں سال