مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 391 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 391

391 محرم آیا ہے آؤ خدا کی بات کریں خدا کے بندوں کے صدق وصفا کی بات ے دنوں کے صدق و منا کی کریں یزیدی ظلم کی، جور و جفا کی بات کریں سنو تو معرکہ کربلا کی بات کریں سفر ہے کلمہ توحید کا سدا جاری بیک خیال و زبان لا الہ کی بات کریں دیے وفا کے جلائے ہیں تیری راہوں میں شعاع نور کی شمع ہدی کی بات کریں وہ جس کی شانِ شہادت پہ جان ہے قُرباں غلام ابنِ مسیح الزماں کی بات کریں جو شاخ کاٹی گئی ہے مسیح کے گلشن سے اس کی چھاؤں کی ٹھنڈی ہوا کی بات کریں پکارتی ہے ہمیں آج روح ذبح عظیم اصغری نور الحق چلو حسین کے درس وفا کی بات کریں حصارِ ذات سے باہر نکل گیا ہے کوئی محبتوں کے ہی معنی بدل گیا ہے کوئی ہزار رحمت باری ہزار اُس پہ سلام وفا کے چہرے پہ چاندی سی مل گیا ہے کوئی اُلجھ کے موج حوادث سے دین کی خاطر عدو کے سارے ارادے بدل گیا ہے کوئی حسین پاک کی سیرت سے روشنی لے کر یزید وقت کی نخوت کچل گیا ہے کوئی یہ سچ ہے سونا کٹھالی میں پڑ کے گندن لگا دی جان تو کیسے اُجل گیا ہے کوئی ہے