مرزا غلام قادر احمد — Page 339
339 بیٹھا اور پھر وداع ہو گیا۔اس دن اس سے ہم نے وعدہ لیا کہ وہ اب پھر ایم ٹی اے کے لئے ایک نئی سیریز شروع کروائے گا۔اس نے کہا انشاء اللہ۔اس پر میں نے اسے اپنے رشین ٹیچر کی بات دفتر سے باہر نکلتے نکلتے سنائی کہ وہ کہا کرتا تھا کہ پاکستانیوں نے جب کسی کام کو دیر سے کرنا ہو تو کہہ دیتے ہیں انشاء اللہ اس پر اس نے کہا میں بھی پاکستانی ہوں لیکن احمدی۔یہ چند لمحے جو ہم نے ایم ٹی اے کے دفتر میں باہم گزارے قادر کے حوالے سے ہمیشہ کے لئے میری زندگی میں زندہ رہیں گے۔اور اس کی یادوں کو زندہ رکھیں گے کہ یہ اس کے ہمیشہ کے لئے وداع ہونے سے ایک روز پہلے کی بات ہے کہ اس نے کس بے تکلفی سے اظہار کیا اور خوش ہوا۔اس کی ہمیشہ کوشش ہوتی کہ جماعتی پیسے کو اس سلیقے سے استعمال کیا جائے کہ کم از کم روپے میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جائے۔لاہور کی ان دوکانوں، ڈیلرز کے نام جو اچھی اور سستی چیز دینے میں شہرت رکھتے تھے اس کو خوب معلوم تھے۔مجھے ایک دو بار ان کے ساتھ سامان خریدنے کے لئے جانے کا موقعہ ملا تو جہاں وہ سفر کا ایک بہترین ساتھی بنا اس کے ساتھ اس نے ہمیں اچھی سے اچھی چیز خرید کر دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔اس کے وجود میں جو انسان سانس لیتا تھا وہ اخلاص کا پتلا تھا۔وہ محبت کا پیکر تھا۔مسکراہٹیں اس کے دامن کا سرمایہ تھیں۔اس جیسے لوگ بہت کم دنیا میں آتے ہیں۔میں نے اس کو متعدد بار بیت المبارک میں اپنے خدا کے حضور دیکھا ہے جس محویت اور توجہ سے وہ نماز ادا کرتا اس پر مجھے بہت رشک آتا۔گزشتہ سے پیوستہ رمضان مجھے اعتکاف کی توفیق ملی تو بیت المبارک میں میں نے اسے