مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 254 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 254

254 ہوں تصویریں لے کے ٹہلتا ہے۔ایک دو دن ہوئے درد ناک آوازیں میرے کان میں پڑیں۔بابا کو نہ مارو، بابا کو نہ مارو دیکھا تو بڑا بیٹا پٹانے والی بندوق چلا رہا تھا اس کا رُخ اتفاقاً قادر کی تصویر کی طرف چلا گیا اور وہ بچہ تڑپ گیا۔میں نے کہا بچے کوئی ظالم تو بابا کو مار چکا ہے مگر اس بچے کو کون سمجھاتا۔اس ڈھائی سالہ بچے کی دردناک آواز ظالم کے کانوں میں پڑ جائے تو اس بے ضمیر کی رُوح بھی تڑپ اُٹھے کہ اس نے کیا ظلم کر دیا لیکن یہی آواز میں خدا کی رحمت کو جذب کریں گی۔انشاء اللہ میں نے اپنے بیٹے کو جزاک اللہ ، جزاک اللہ کہہ کر رخصت کیا میں نے سوچا مجھے اپنے باپ کو بھی جزاک اللہ کھنا چاھئے جس نے مجھے نیک نسل چلانے کا احساس دلایا۔ہر وقت حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کا وارث بننے کی تلقین کی۔دُعاؤں کی طرف توجہ دلائی۔جب بھی مجھے تہجد پڑھنے کی توفیق ملے۔ابا جان (نواب عبداللہ خان صاحب) کی درد ناک آوازیں کانوں میں گونجتی ہیں۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا۔۔آج پچاس سال سے زیادہ گزر چکے ہیں مگر یہ آوازیں روز اول کی طرح کانوں میں آتی ہیں۔سردیوں میں تو اپنے کمروں میں ہوتے تھے۔مگر گرمیوں میں صحن میں چار پائیاں ہوتی تھیں بڑا سا چوکا صحن میں نمازوں اور کھانے کے لئے بچھا ہوتا تھا جہاں ابا جان نماز تہجد پڑھتے تھے۔اور میری آنکھ دُعاؤں کی آوازوں سے کھلتی تھی اور اس خاموشی میں عجیب اثر ان دُعاؤں کا ہوتا تھا۔آج ابا جان کی روح بھی خوش ہوگی کہ خدا نے ان کے نواسے کو یہ توفیق عطا کی خدا دعاؤں کو ضائع کرنے والا نہیں۔بس ایک وقت مقرر ہے۔