مرزا غلام قادر احمد — Page 249
249 انکار ہوا تو امی کی قدرتی طور پر خواہش تھی کہ کسی اور بیٹی سے رشتہ ہو جائے کسی وقت قادر سے امی نے ذکر کیا۔لاہور جا کر مجھے خط لکھا: لاہور آنے سے پہلے میں بڑی امی سے ملنے گیا تھا کہہ رہی تھیں میری اور بھی بیٹیاں ہیں میں چُپ بیٹھا رہا۔ہمیشہ اس بات سے ڈرتا تھا کہ بڑی امی اپنی خواہش کا اظہار نہ کر دیں۔میرے لئے تو ان کی حیثیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی کی ہے ان کی خواہش کو رڈ کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔میں ساری عمر یہ احساس لئے نہیں گزار سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی نے اپنی آخری عمر میں مجھ سے کوئی خواہش کی اور میں اسے پورا نہیں کرسکا۔ان سے کہیں میرے لئے دُعا کریں جو میرے لئے بہتر ہے خدا ایسا ہی کر دے یقیناً وہ بہتر جانتا ہے۔ہر چیز پر قادر ہے۔یہ خط بھی ہیں اکیس سال کی عمر کا ہے کم عمری میں بھی اس کے خیالات ٹھوس حقیقتوں پر مبنی تھے۔ایبٹ آباد پبلک اسکول میں جاتے ہی اس کو فکر تھی کہ الفضل اور تشخیز لگوا دیں۔1974ء میں بارہ سال کی عمر میں گیا تھا۔چھوٹی چھوٹی باتیں اس کی کم عمری کی یاد آتی ہیں تو سوچتی ہوں بڑوں نے سچ ہی کہا تھا کہ ”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات“ دوسرے خط میں پھر تاکید لکھتا الفضل اور تفخیذ بھجوادیں اور اس چیز کی فکر نہ کریں کہ ہم نماز وغیرہ نہیں پڑھتے ہیں چچا حضور اور بڑی امی کو دُعا کے لئے کہہ دیں یہاں اچھی پوزیشن حاصل کروں اور ہوسٹل میں صحیح طرح رہنے کی توفیق عطا کرے۔اسے پورا احساس تھا کہ میں خاندان اور ماں باپ کے لئے کسی