مرزا غلام قادر احمد — Page 232
232 خدا کا سایہ کبھی ان کے سر سے نہ اُٹھے۔خدا ہر آن ہر وقت ان کا نگہبان ہو خدا میرے بیٹے کی خدمتوں کا بہترین صلہ اس کی اولاد کو دے۔وہ 37 سال جیا مگر ایک واقعہ یاد نہیں کہ اس نے نافرمانی کی ہو یا کوئی حرکت اس کی ناگوار گزری ہو۔وہ خوشیاں دیتا رہا جب تک زندہ رہا۔وہ مر کر بھی ہمارا سر بلند کر گیا وہ جیا بھی شان سے وہ مرا بھی شان سے۔اور دائمی خوشی دے گیا۔میری درخواست ہے کہ اس کی بیوی بچوں کے لئے دُعا کریں کہ وہ خادمِ دین ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث ہوں۔کہ یہ ہماری ابتدا ہے یہی ہماری انتہا۔میرے بچے زندہ باد - پائندہ باد روزنامه الفضل 5 رمئی 1999ء)