مرزا غلام قادر احمد — Page 215
215 ربوہ سے ابنِ عادل صاحب نے لکھا کہ اُن کی فرم میں حساب کتاب کے لئے کمپیوٹر لگانے کی تجویز ہوئی پروگرامنگ کے ریٹ معلوم کئے میاں صاحب کے دیے ہوئے ریٹ ان سب کے مقابلے میں صرف ہیں فیصد تھے آپ سے پروگرامنگ کروانے کے بعد جب دیگر پروفیشنلز سے رابطہ کیا گیا اور انہیں خرچ کا بتایا تو وہ حیران رہ گئے کہ اتنے کم خرچ پر یہ کام کس طرح ہو گیا۔جماعتی نظام کی اطاعت کی اہمیت: راجہ محمد فاضل صاحب ( شعبه مال دفتر خُدام الاحمدیہ پاکستان) قادر کے حُسن کارکردگی کے دو واقعات بتاتے ہیں۔اٹک کے دورہ کے دوران ان کو تربیلا ڈیم جانا تھا۔کامرہ سے غازی پہنچے تو آگے کوئی سواری نہ ملی۔اسپیشل سوزوکی وین کرائے پر لی۔سفر خرچ کے بل میں اس کرایہ کی رقم دیکھ کر سمجھایا کہ جماعتی اموال کو اس طرح ضائع نہیں کرتے پچھلی مجلس سے کسی کو ہمراہ لے لیتے تو زائد کرایہ خرچ نہ ہوتا۔دوسرا واقعہ بھی جماعت کا پیسے کو احتیاط سے خرچ کرنے کے متعلق ہے۔جب میاں صاحب جلسہ سالانہ لندن کے لئے جارہے تھے تو ان کو سرحد کے دورے سے منع کیا تھا مگر میاں صاحب کے جانے کے بعد سرحد کا دورہ منظور کروالیا جب میاں صاحب نے بل دیکھا تو بہت سمجھایا کہ جماعتی نظام کی اطاعت کی بہت اہمیت ہے۔اپنا کوٹ اُتار کر دے دیا: