مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 207 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 207

207 دیتا ہوں تم جو بہتر سمجھو وہ کرو۔پھر اُس نے باقاعدہ زمینوں پر کام شروع کر دیا۔مجھ سے مشورہ ضرور لے لیتا مگر خدادا انتظامی قابلیت کی وجہ سے بہت جلد وہ زمینداری کے معاملات سمجھ گیا اور خود بھی فیصلے کرنے لگا جو بہت بہتر تھے۔آپ کی والدہ محترمہ فرماتی ہیں:- میں نے ہی قادر کے ابا سے کہا تھا کہ زمینوں کے معاملات قادر کے سپر د کر دینے چاہئیں۔یہ درست ہے کہ زمین اس وقت خسارے میں جارہی تھی قادر نے بڑی مہارت سے کام سنبھالا ہم نے اُسے کہہ رکھا تھا کہ خوشی سے جو تمہیں دیں اس کے علاوہ منافع میں دس فیصد تمہارا حصہ ہوگا۔مگر ہمیں فکر ہی رہتا کہ اُس نے اپنا حصہ لیا بھی یا نہیں قادر کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ جتلاتا نہ تھا یعنی جب اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور قادر کی مسلسل اور انتھک محنت کے باعث زمین نے خاصا منافع دینا شروع کیا تو اُس نے کبھی اشارہ بھی ذکر نہ کیا کہ یہ سب کچھ میری جہد مسلسل کا ثمر ہے نہ اپنے بھائی کی نسبت کوئی بات کہی۔وہ تو وفا کا پتلا تھا شکوے شکایت کرنا جانتا ہی نہ تھا۔اسکول کی معلمہ کا احترام : آپ کی پرائمری ٹیچر محترمہ حبیبہ مجید صاحبہ مھتی ہیں:- پرائمری کے بعد میری اس کی ملاقات کم و بیش سترہ اٹھارہ سال بعد ہوئی جب سے اس نے امریکہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وقف کر کے بطور انچارج کمپیوٹر سیکشن صدر انجمن احمدیہ میں خدمات انجام دینا شروع کی تھیں۔ایک دن میں سر راہ چلی جا رہی تھی کہ میں نے قادر کو سامنے سے آتے