مرزا غلام قادر احمد — Page 143
143 حضور ایدہ الودود کے درس القرآن سے بھر پور استفادہ کرتے۔آپ کو مالی قربانی کی عادت تھی اپنا چندہ با قاعدگی سے ادا کرتے بلکہ بڑھا کر دیتے ہر تحریک میں شریک ہونا سعادت سمجھتے اگر کوئی زائد آمد ہوتی تو اُس میں سے شرح کے مطابق چندہ ادا کرتے۔مالی قربانی کی اہمیت کا اندازہ تو اسی سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ آپ کی تعلیم اور ڈگری اتنی بڑی تھی کہ اُس وقت پاکستان میں ایسے تعلیم یافتہ لوگ انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے اور لاکھوں روپے کما سکتے تھی مگر قادر نے دین کو دنیا پر مقدم رکھا خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی صلاحیتوں کو وقف کر دیا۔خط لکھا۔خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اُس پر نثار اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب که راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب اُسے دے چکے مال و جاں بار بار ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار لگاتے ہیں دل اپنا اُس پاک وہی پاک جاتے ہیں اس خاک سے لباس تقویٰ میں ملبوس زیور تعلیم سے بے سنورے قادر نے حضور کو 23 اپریل 1989ء سیدی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته اُمید ہے حضور خیریت سے ہوں گے اللہ تعالیٰ ہر آن حضور کو اپنی حفاظت میں رکھے ہمیشہ اپنے فضل سے نوازتا رہے اور آپ کو اپنے نیک