مرزا غلام قادر احمد — Page 109
109 دو چچا طاہر سے کہہ دیں میں مجلس کا چندہ وغیرہ یہیں پر دے دیتا ہوں۔“ اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ چا طاہر سے بچے کا رابطہ ہو گا اور قیمتی نصیحتیں ساتھ لے کر گئے ہوں گے۔جس کے نتیجے میں بچپن سے شوق سے چندہ دینے کی عادت ہو گئی۔الفضل اور تشخیز کا مطالعہ کرنے کے لئے دوسرے احمدی بچے آپ کے کمرے میں آتے رہتے۔یہ پرچے جماعتی خبروں کے حصول اور رابطے کا ذریعہ تھے۔خُدام اور اطفال کا اجلاس بھی ہوتا۔قادر نے ستارہ اطفال کا امتحان بھی دیا تھا۔مطاق کھلاڑی: قادر پھر تیلے جسم کے چُست اور متحرک رہنے والے بچے تھے۔پرائمری اسکول میں پڑھائی کے ساتھ بلکہ کچھ زیادہ کرکٹ کھیلنے سے دلچسپی تھی۔اسکول کے ساتھ ایک قطعہ زمین خالی تھا۔یہی گراؤنڈ ہوتا اور خوب کرکٹ ہوتی۔اس کھیل میں دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ ہائی اسکول کے ابتدائی زمانے میں با قاعدہ ایک کرکٹ کلب قائم ہو گیا۔سیّد جونیئر کرکٹ کلب، اس کلب کی ممبر شپ، فنڈز، آمد و خرچ کا حساب، ضروریات کا جائزہ یہ سب فرائض کپتان کے ذقتے تھے۔ایک ایک پائی کا لکھ کر حساب رکھا گیا تھا۔قادر کے بچپن کی ڈائری ملی ہے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ معصوم قادر نے اس ذمہ داری کو خوب نبھایا۔اُس زمانے کے دوستوں کے نام بھی ریکارڈ پر آ گئے۔جیب خرچ کے حساب سے والدین کی تربیت کا انداز بھی سامنے آ گیا۔جیب خرچ دیا گیا مگر حساب رکھنے کو بھی کہا گیا تا کہ ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔بچپن کی ڈائری کے چند اوراق بہت کچھ اپنے اندر رکھتے ہیں۔