مرزا غلام قادر احمد — Page 488
488 آ میرے بندوں میں داخل ہو جا آمیری جنت میں داخل ہو جا ماما، بابا بہت نمازیں پڑھتے تھے اس لئے اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا ہے۔میں بھی بہت نمازیں پڑھوں گا تو اللہ کے پاس چلا جاؤں گا پھر بابا سے ملوں گا۔نور الدین کی اس بات پر بے اختیار میں نے اُسے اُٹھا کر سینے سے لگا لیا۔خود پر بمشکل قابو پاکر اسے تسلی دی۔کتنا شوق تھا اس کی آواز میں کسی تڑپ تھی باپ سے ملنے کی نہ جانے کب سے دل میں حسرت دبائے ہوئے تھا جو آج زبان پر آگئی۔تب مجھے سمجھ آئی کہ کیوں یہ نماز پڑہنے امی کے گھر سے بھاگ بھاگ کر بیت جاتا ہے۔بچوں کی بھی اپنی الگ ہی کائنات ہوتی ہے جس میں گم یہ کہانیاں بناتے رہتے ہیں۔اسے یہی راستہ نظر آیا کہ جتنی نمازیں پڑھوں گا اتنی جلدی قادر سے مل سکوں گا۔اسے یاد کرنے کا سب بچوں کا اپنا رنگ ہے۔سطوت قادر پر گئی ہے۔اپنا دکھ چھپا جانے والی لیکن اس کا یہ چھپایا ہوا دکھ بھی بھی بول پڑتا ہے۔کرشن کو علیحدگی میں اور کبھی مجھ سے لپٹ کر روتے دیکھ کر میں بھی اختیار کھو دیتی ہوں۔مصلح کی آنکھیں گہری اُداسی لئے قادر کی تصویر پر جم جاتی ہیں تو ایک پل میں اس کے معصوم ذہن کے سارے سوال اور دل کی بے چینی میرے اندر اُتر آتی ہے کہ میں خود اس راہ کی مسافر ہوں۔پھر میں اسے اکیلے لے کر