مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 482 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 482

482 دیکھ لی، انسان کو انسان بنانے میں بہت سوں نے اپنی اپنی جانوں کی قر بانی دے ڈالی لیکن حاصل کیا ہوا؟ انسان آج بھی انسان کے خون کا پیاسا ہے، وہ کبھی مذہب کے نام پر کبھی ملک اور رنگ ونسل کے نام پڑا تو کبھی محض سیاسی مصلحتوں کی خاطر۔۔دوسروں کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلا رہتا وہ کشمیر ہو یا بوسنیا، کوسووو ہو یا روانڈہ زندگیاں ختم کرنے کی ایک ہے۔بے مقصد دوڑ جاری ہے، میں تو بیزار آگئی ہوں اس زندگی سے لیکن میرا حال شاید اس فیچر سا ہے جس کا مالک اس بات پر پریشان تھا کہ محض ایک تنکا رکھنے سے آخر وہ خچر گر کر مر کیسے گیا۔حالانکہ بوجھ جھیلنے کی وہ اس کی آخری حد تھی یا شاید میں وہ تالاب ہوں جس میں آخری قطرے نے چھلکنے کا سامان کر دیا ہے۔اپنے گردو پیش کی چیزیں انسان کو ضرور متاثر کرتی ہیں، دوسروں پر ہونے والی زیادتیوں پر دل اور ذہن کڑہتے بھی ہیں اور کچھ کر نہ سکنے کی بے بس زندگی بیزار کرنے کے لئے بھی کافی ہوتی ہے لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے یا کوئی ایک بات ایسی ہو جاتی ہے کہ پھر مکمل طور پر زندگی ایک فضول سی چیز لگنے لگتی ہے، میرے صبر کے تالاب کو چھلکانے میں جس قطرہ نے کام کیا ہے، وہ درحقیقت پانی ہی ہے۔