مرزا غلام قادر احمد — Page 425
425 میری بہت پیاری نچھو! مقام جو سانحہ تم پر گزر گیا اس کا کوئی مدوا نہیں اور نہ ہی قادر کی کمی کبھی پوری ہوگی لیکن پھر بھی یہ کہنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے آگے سربسجود ہیں۔اب وہ تمہارا ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا بھی پیارا بن گیا ہے۔اب وہ تمہارے اور خدا تعالیٰ کے درمیان براہ راست تعلق بن گیا ہے۔نچھو! تم ایک عظیم ہستی کی بیوی ہونے کے ناطہ خود بھی عظیم ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے لئے چن رکھا تھا اسی لئے تو تمہیں قادر کے لئے منتخب کیا اب صرف ہماری نہیں بلکہ ساری جماعت اور ساری کائنات کی دُعائیں تمہارے اور تمہارے بچوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچتی رہیں گی۔قادر گیا کہاں ہے بلکہ ساری دُنیا سے تو اب اس کا تعارف ہوا ہے وہ تو رہتی دنیا تک یہیں رہے گا تمہارے پاس تمہارے بچوں کے پاس اور ہم سب کے پاس ایک جگمگاتے ستارے کی مانند ایک بیش قیمت ہیرے کی مانند۔کریم الدین احمد - منڈی بہاؤالدین قادر ایک زندہ دل دوست تھا۔وقف کے بعد صرف ایک دفعہ Hiking پر گیا۔میرا خیال ہے کہ یہ 81-1980ء کی بات ہے۔اس میں صمد، وحید، ضرغام اور خاکسار اس کے شریک سفر تھے۔ہم لوگوں نے وادئ نیلم، بلتستان اور وادی کاغان کے سنگم کے علاقہ میں کوہ نور دی کی تھی۔جب ہم لوگ روانہ ہوئے تو ہمارا ارادہ نیلم اور کاغان کا ایک بہت زیادہ مستعمل اور Beaten trek شاردہ سے نوری ناڑ کے راستہ بورہ وائی (کاغان ) تک جانے کا تھا۔جب ہم لوگ مظفر آباد پہنچے تو ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ نیا علاقہ نئے لوگوں کو دیکھا جائے۔وہیں لوگوں سے پوچھ کر نیا Route طے کیا اور پھر اس