مرزا غلام قادر احمد — Page 390
شہزاد عاصم 390 چہرہ وہ کسی ٹور کے ہالوں کی طرح تھا سچ کہتا ہوں قادر تو اُجالوں کی طرح تھا جس عہد کے مہتاب ہیں اب رابع خلیفہ اُس عہد کی تابندہ مثالوں کی طرح تھا دشمن تھے مقابل یہ کہ خونخوار درندے تنہا وہ لڑا شیر، جیالوں کی طرح تھا حیرت سے اُسے موت سدا یاد رکھے گی جھکنے شخص بظاہر جو غزالوں کی طرح تھا سے وہ کچھ اور بھی لگتا تھا ثمر بار کردار میں دیکھو تو ہمالوں کی طرح تھا ܙ܀ اپنوں میں وہ ریم کی طرح نرم شمائل دشمن کے لئے سخت جبالوں کی طرح تھا ہونٹوں پہ تھی مُسکان تو آنکھوں میں حیا گفتار میں وہ شیریں خصالوں کی طرح تھا ہر بات جو اُس کی تھی نگینوں کی طرح تھی جو لفظ تھا گویا وہ حوالوں کی طرح تھا اپریل کی چودہ تھی کہ تاریخ قیامت؟ عاصم وہ عجب دن تھا کہ سالوں کی طرح تھا!