مرزا غلام قادر احمد — Page 373
پھر خونِ شہداء سے دھرتی لہو رونے لگی انسانیت اس جبر پر دل سوختہ ہونے لگی جی دار اک جاں وار کے جامِ شہادت پی گیا کس شان سے رخصت ہوا کیسی ادا سے جی گیا باطل کے رستے میں بدن اُس کا اٹل کہسار تھا دشمن سے شیروں کی طرح وہ برسر پیکار تھا اس خون سے تاریخ کا یہ باب لکھا جائے گا ہر جسم میں بولے گا پھر ایسا بھی دور اک آئے گا شمر لعیں لائے تھے پھر تیغیں بجھا کے زہر میں 373 آدیکھ شام کربلا۔۔۔آدیکھ شام کر بلا۔۔دیکھ شام کربلا۔۔۔