مرزا غلام قادر احمد — Page 358
358 عزیزان ( مرزا نورالدین احمد اور مرزا محمد مصطلح احمد ) کی عادات میں فرق رہا۔خاکسار پہلے بھی کبھی کبھار میاں صاحب کے بڑے بیٹے عزیزم مرزا کرشن احمد کو موٹر سائیکل پر سیر کروا دیا تھا۔اس دن بھی عزیزم کرشن میرے ساتھ سیر کرنے کے لئے موٹر سائیکل پر بیٹھ گیا۔اور میاں صاحب دونوں چھوٹے بیٹوں کو لے کر گھر چلے گئے۔میاں صاحب کی شہادت کے تیسرے روز جب خاکسار عصر کی نماز بیت مبارک میں ادا کر کے اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا تو اچانک عزیزم کرشن پیچھے سے آیا اور بڑی ہی بے تکلفی سے موٹر سائیکل پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا۔یہ انکل تو مجھے پہلے بھی موٹر سائیکل پر سیر کرواتے ہیں“ اس چھوٹی عمر میں اس معصوم بچے کو یہ احساس نہیں تھا کہ پہلے اور اب کی سیر میں کتنا فرق پڑچکا ہے۔لیکن اس معصوم کے اس بے ساختہ جملے نے خاکسار کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا اور وہ ساری یادیں پھر سے تازہ ہوگئیں۔خاکسار عزیزم کرشن احمد کو اس کے ننھیال میں اُتار کر روتا ہوا گھر پہنچا۔وو میاں صاحب سے خاکسار کی آخری ملاقات ان کی شہادت سے ایک دن قبل ڈیڑھ بجے کے قریب ہوئی۔مجھے کچھ گھر یلو فوٹوز Scan کرنے تھے میاں صاحب سے بات کی تو آپ نے کہا Scanner کلیم احمد سے لے چلانے کا طریقہ میں آپ کو سمجھا دوں گا۔لیکن چلانے کا طریقہ میاں صاحب بھی نہ سمجھا سکے۔خاکسار یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ چند منٹوں کی ملاقات ہماری آخری ملاقات ہو گی۔اور وہ ہنستا مسکراتا چہرہ ہمیں ہمیشہ کے لیں۔لئے افسردہ چھوڑ کر چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میاں صاحب کی تجہیز و تکفین اور قطعہ شہداء سے احاطہ خاص بہشتی مقبرہ میں منتقلی کے مواقع پر خاکسار کو خاص خدمت کی توفیق ملی۔الحمد للہ علی ذالک