مرزا غلام قادر احمد — Page 357
357 مہمانوں کو پندرہ منٹ انتظار کرنا پڑا۔ظاہر ہے اس دوران کچھ تھوڑی سے فکر مندی پیدا ہوئی۔گومیاں صاحب نے خاکسار کے ساتھ کسی ناراضگی کا اظہار تو نہیں کیا تھا پھر بھی انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی فکر مندی کے اظہار کی وجہ سے کہیں خاکسار نے محسوس نہ کیا ہو۔اگلے ہی دن مجھے پیغام دیا کہ میں نے آپ کے لئے ایک تحفہ رکھا ہوا ہے۔چنانچہ دو روز بعد جب خاکسار کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے ٹیوٹا موٹرز کی 1999ء کی بڑی خوبصورت ڈائری تحفتاً دی جو خاکسار کے پاس ان کی یادگار آج بھی محفوظ ہے۔ایک دفعہ گرمیوں کے دن تھے خاکسار جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر جانے لگا تو میاں صاحب کو کار پارکنگ کے ساتھ درختوں کی چھاؤں میں کھڑے دیکھا۔سلام دعا کے بعد فرمانے لگے آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس وقت فرشتہ بنا کر بھیجا ہے خاکسار نے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے تو کہنے لگے گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا ہے لہذا ہم دونوں لاری اڈہ سے موٹر سائیکل پر جا کر پٹرول لائے گاڑی میں ڈالا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن گاڑی اسٹارٹ نہ ہوئی۔اس وقت تک کار پارکنگ خالی ہو چکی تھی اور دھوپ بھی بہت تیز تھی میاں صاحب نے سفید لٹھے کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور پسینہ آرہا تھا۔میاں صاحب نے گاڑی کا بونٹ کھول کر کار بوریٹر کو کھولا اپنے سفید کپڑوں کی فکر کئے بغیر اپنے منہ سے کاربوریٹر میں سے پٹرول کو Suck کیا تو گاڑی پہلے ہی سلف پر اسٹارٹ ہو گئی۔اپنی شہادت سے پانچ یا چھ روز قبل عصر اور مغرب کے درمیان میاں صاحب اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ پیدل گھر جاتے ہوئے دارالضیافت کے سامنے ملے چونکہ میاں صاحب کے جڑواں بیٹے بھی ساتھ تھے اس دن موضوع Twins کی اقسام Feternal Twins, Meternal Twins) اور گفتگو