مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 338 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 338

338 تواں دفتر ری ویکھن نہیں آئے میں جہاڈے کو لوں مشورہ لینا سی“ یہ وفات سے ایک دو روز پہلے کی بات ہے۔میں ان کے نئے دفتر میں گیا جو تحریک جدید کے کمیٹی روم میں بنایا گیا تھا۔میں نے کہا قادر صاحب میں حاضر ہوں کہنے لگے اس کمرے کی ایئر کنڈیشننگ کرنی ہے اور اس میں فالس سیلنگ (False Ceiling) کرنی ہے میں نے کہا کسی انجینئر سے مشورہ کر لیتے ہیں۔کہنے لگے کہ آپ نے اپنے اسٹوڈیو میں کیا کیا تھا میں نے کہا کہ تھر موپول سے انسولیشن کی ہے۔کہنے لگے کہ وہی یہاں کر لیتے ہیں اس پر میں نے کہا کہ چھت سے دو فٹ نیچے کروائیں تا کہ مناسب ٹھنڈک ہو سکے۔لیکن وقت نے اسے مہلت نہ دی کہ وہ یہ کام اپنے ہاتھوں سے کروا سکے۔نظام کی بے پناہ اطاعت کا جذبہ ان کے اندر تھا۔بسا اوقات ان کا خیال ہوتا کہ فلاں چیز خرید لی جائے جو آج کل سستی ہے مجھے اکثر فون کر دیتے کہ فلاں قسم کا کمپیوٹر آج کل سستا ہوگیا ہے اور فلاں نیا پروگرام Software آ گیا ہے جو ایم ٹی اے کے کام آئے گا۔تو میں کہتا کہ ٹھیک ہے دیکھتے ہیں خرید لیتے ہیں۔کبھی کبھی شام کو دفتر آتا تو میں پوچھتا کہ ”چائے“ تو چہرے کی مسکراہٹ اس کی آشیر باد دیتی تو میں چائے بنالیتا۔کہتے یار تمہارے دفتر کی چائے بڑی مزے کی ہوتی ہے۔یہ اس کی شہادت سے ایک دو روز پہلے کی بات ہے شام کو دفتر آیا۔میں نے چائے کو پوچھا کہنے لگا کہ ”سکی چاء نہیں پینی (صرف چائے نہیں) میں نے عرض کی کہ میاں صاحب ہم گلاب جامن منگوا لیتے ہیں۔میں نے گلاب جامن اور برفی منگوائی خوش ہو کر کھائی خوش قسمتی۔سے گلاب جامن بھی تازہ تھے اور برفی بھی اچھی بنی ہوئی تھی۔کچھ دیر