مرزا غلام قادر احمد — Page 337
337 آخری روز کی بات ہے میری امی جان اسلام آباد سے کچھ دنوں کے لئے ربوہ آئی ہوئی تھیں۔میں انہیں چھوڑ نے چنیوٹ اپنے دوست عزیزم کامران زاہد کے ساتھ اس کی گاڑی پر جا رہا تھا، جب ہم چینوٹ کی طرف جاتے ہوئے دریائے چناب کا دوسرا پل کراس کرنے لگے تو پل پر ایک سیاہ جوتا ایک چاقو یا چھری اور ایک کپڑا پڑا تھا کامران بولا کہ دیکھیں کیا پڑا ہے، میں نے کہا جانے دو کوئی واردات وغیرہ ہوئی ہوگی اور کسی نے چیزیں یہاں پھینک دی ہوں گی۔اور ہم آگے بڑھ گئے۔جب کو ہستان بس اڈے پر پہنچے تو ہمیں اڈے کے مینیجر نے بتایا کہ ربوہ کے کسی گاڑی والے کو گولی لگ گئی ہے۔ہم نے پھر بھی سنی ان سنی کر دی بس آگئی اور ہم امی کو بس پر چڑھا کر واپس ربوہ آگئے۔میں اپنے دفتر آیا تو دیکھا کہ محترم چٹھہ صاحب دل گرفتہ ہیں۔میں نے پوچھا کہ کیا ہوا کہنے لگے کسی نے قادر کو گولی مار دی ہے اور وہ چینوٹ اسپتال میں مجھے یوں لگا کہ جیسے کسی نے میرے دل پر ہے۔ہاتھ ڈال دیا ہے۔پل بھر میں میری آنکھوں کے آگے وہ تمام لمحے گھوم گئے جو میرے اور اس کے درمیاں ربط باہم کے امین تھے۔میرے اندر تمام حو صلے ٹوٹ گئے میں نے اپنی آنکھوں پر بے حد ضبط کیا لیکن دل کا کیا کرتا وہ تو گر یہ گریہ تھا۔ہر شخص کے ساتھ قادر کا مختلف تعلق تھا ہم کبھی دوستی کے اس دائرے میں داخل نہیں ہوئے جہاں درمیانی حجاب اُٹھ کر بے تکلفیاں در آتی ہیں۔ہم نے شاید کبھی اپنے دکھ اور سکھ Share نہیں کئے لیکن وہ میرے اندر تھا اور رہے گا کیوں؟ اس کا میرے پاس جواب نہیں۔مجھے وہ لمحے یاد ہیں جب اس نے کہا تھا ” فضیل صاحب کسی میرا