مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 328 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 328

328 محترم عبدالسمیع صاحب نون : مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اُداس ہے آسمان روحانیت کے ”قمر“ کا ایک ٹکڑا گر پڑا دنیا میں دہشت گردی کی اتنی وارد تیں ہوئیں۔قتل و غارت گری اور بے گناہ قیمتی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ جاری رہا گویا روز مرہ کا فرض ادا ہو رہا ہے۔اس صدی کے پہلے ہی سال 1901ء میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کے ایک شاگرد عبد الرحمن صاحب کو حق قبول کرنے کی پاداش میں گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔پھر جولائی 1903ء کو حضرت شہزادہ صاحب کو ملک افغانستان میں ہی چرخی پل جیل کابل کے ساتھ والے میدان میں وحشت اور درندگی سے سنگسار کیا گیا اس کی مثال بھی نہیں ملے گی۔اور جس کمال بہادری اور کمال استقامت اور کامل صبر کے ساتھ اپنی متاع جان حضرت شہزادہ صاحب نے اپنے خالق و مالک کے سپرد کر دی وہ بھی بے مثال ہے۔”اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں تیری پاک روح اپنے خالق و مالک کے قدموں میں قربان ہونے کے لئے بے قرار تھی اس لئے وہ کمال اطمینان کے ساتھ اس قتل گاہ کی طرف بڑھتی گئی۔اس کے بعد 31 / اگست 1924ء کو بھی اور 5 فروری 1925ء کو