مرزا غلام قادر احمد — Page 301
301 قادر کی خوش دامن صاحبزادی امتہ الباسط کے تاثرات قادر کے والد اور والدہ دونوں رشتے میں میرے کزن ہیں۔بچی کا رشتہ کرتے وقت ہمیں اس بات کی بے حد خوشی تھی کہ ہونے والا داماد وقف زندگی ہے۔ہماری تو خود خدا کے فضل سے یہ پانچویں نسل ہے جو واقف زندگی ہے یعنی اب میرا پوتا میر قمر سلیمان کا بیٹا بھی وقف ہے ہم سمجھتے ہیں کہ دُنیا تو سب ہی کماتے ہیں جب کہ دین کمانا ہی تو اصل بات ہے۔قادر کو شادی سے پہلے ہم زیادہ نہیں جانتے تھے مگر جب داماد بنا تو ہمارے ساتھ اُس کا رویہ بے تکلفانہ تھا۔ہر ماں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کی بیٹی اپنے گھر سکھی رہے اس لحاظ سے ہم مکمل طور پر مطمئن تھے کہ اُس نے ہماری بیٹی نصرت کو محبت اور سکون دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ہمارا گھر اُس کے دفتر کے پاس ہی تھا اس لئے دفتری اوقات کے دوران بھی چھوٹی موٹی ضرورت پڑتی تو نہیں آجاتا۔وہ بہت کم گو تھا تاہم گھر میں اگر بات کرتا تو زیادہ تر مردوں سے، عورتوں سے کم اکثر میرے بیٹے قمر سلیمان اور اس کے درمیان مختلف موضوعات زیر بحث رہتے۔ان دونوں کا آپس میں بہت پیار تھا میں اپنی بیٹی نصرت اور قادر کے پاس تین ماہ امریکہ میں بھی رہی ہوں وہاں بھی قادر نے میری چھوٹی چھوٹی بات اور پسند کا خیال رکھا۔