مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 296 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 296

296 ذمہ دار شوہر جب باپ بنا تو مثالی باپ بنا۔بچوں کی نگہداشت، پرورش، تعلیم و تربیت میں ہر ممکن خدا اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کے مطابق عمل کیا۔بچوں کی پیدائش سے پہلے سے نیک اولاد کے لئے دعا کرتے پوری کوشش ہوتی کہ گھر میں کوئی ایسی بات نہ ہو جو بچوں کے کان میں پڑنا نا مناسب ہو۔بچوں کی صحت و خوراک پر خاص دھیان دیتے بچوں کو اسکول چھوڑنے اور لانے کا کام خود کرتے اسکول کے کام میں دلچسپی لیتے۔اور خاص طور پر کھیل میں بچوں کا ساتھ دیتے اس طرح بچوں کو گلی محلے میں جانے کی ضرورت کم پڑی۔قادر کے ساتھ بچے اتنے بے تکلف تھے کہ دروازے کی گھنٹی کی آواز سنتے ہی بابا آ گئے بابا آ گئے کے شور سے استقبال ہوتا۔اندر آتے ہی قادر سنجیدہ اور بردبار شخصیت کی بجائے بچوں میں بچہ ہو جاتے اور دل کھول کر ہنستے کھیلتے۔قادر نے اپنے بچوں کی دو خوشیاں دیکھیں ایک بڑے بیٹے کا عقیقہ دوسری بیٹی سطوت کی آمین۔اس کے ساتھ ہی جڑواں بیٹوں کے عقیقے کئے سارے خاندان کو بلایا۔بہت اچھے فنکشن ہوئے۔خوب رونقیں لگیں لائٹیں لگوائیں۔قادر خود تو سادگی پسند تھے یہ سب دادا دادی کی فرمائش پر انہیں کے گھر پر ہوا سارا انتظام قادر نے خود کیا اور بہت خوبصورت کیا چاروں طرف قناتیں لگیں چوکے،صوفے قالین بچھے سطوت دادی کے تیار کردہ حیدر آبادی جوڑے میں منھی سی دلہن بنی ہوئی تھی اور بچے خوشی سے گھوم رہے تھے۔قادر نے ان بچوں کا شادی بیاہ تو نہیں دیکھنا تھا کچھ خوشی کے لئے اہتمام ہو گیا۔باپ کی شہادت کے وقت سطوت کی عمر آٹھ (8) سال تھی قدرت کے عجیب رنگ ہیں جب اس کی امی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھا وہ دس سال