مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 256 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 256

256 محترمه قدسیہ بیگم صاحبہ کے ساتھ ایک نشست : نومبر 2001ء کی خنک شام قادر شہید کی والدہ صاحبہ سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے کے لئے محترمہ برکت ناصر صاحبہ اور خاکسار امتہ الباری ناصر الفارس میں داخل ہوئیں تو اُلٹے ہاتھ خوبصورت سبزہ زار نظر آیا سامنے داخلی دروازے سے اندر جاتے ہی قادر کی خوبصورت تصویروں نے استقبال کیا ہم دل پر بڑا بوجھ لئے آئی تھیں کہ آپا قدسیہ بیگم صاحبہ سے گفتگو کا آغاز کیسے کریں گی۔ہمیں تصویروں میں مگن دیکھ کر وہ بتانے لگیں۔اپنی۔خود۔” میرے گھر میں کئی تصاویر لگی ہیں۔اپنے بچوں کی۔۔۔۔اپنے بزرگوں کی۔مگر ایک تصویر جو ہر وقت میری نظروں کے سامنے رہتی ہے خواہ اپنے گھر میں ہوں یا ربوہ سے باہر ہوں، وہ قادر کی تصویر ہے جو میرے ذہن پر اُبھرتی ہے۔جس دن وہ گھر سے گیا تھا زندہ سلامت دروازے پر کھڑا تھا خدا جانے کیوں اُداس تھا کار کی چابی اُٹھائی اور کہا۔امی میں جارہا ہوں۔کاش مجھے پتہ ہوتا کہ وہ ہمیشہ کے لئے جا رہا ہے اور اب پھر جب جائے گا تو باپ اور بھائی کے کاندھوں پر جائے گا۔میرا بیٹا مجھے آخری بار امی کہہ رہا تھا سینتیس سال میں ہزاروں بار امی کہا ہو گا مگر یہ امی مجھے بھولتی نہیں یہ تصویر نظروں میں اُبھرتی ہے۔دن میں کئی بار بعض دفعہ لوگوں کے سامنے بعض دفعہ تنہائی میں، مجھے خشک ہچکیاں آتی ہیں۔میری آنکھوں میں آنسو نہیں ہوتے۔جس طرح یہ خشک کھانسی دوسری کھانسی سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔اسی طرح یہ خشک ہچکیاں بہت دُکھ دیتی ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ وقت پر انسان صبر کر لے۔زیادہ ہی صبر کرے