مرزا غلام قادر احمد — Page 252
252 ہوا تھا چند دن ہوئے دیکھا تو سوچا قادر کو دکھاؤں مگر نوبت نہ آئی اور وہ رخصت ہو گیا۔وقف کی زنجیر خدا کا فضل ہے ہمارے وقف کی زنجیر ٹوٹی نہیں۔خدا کرے تا قیامت نہ ٹوٹے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دُعاؤں کے وارث پیدا ہوتے رہیں ماموں جان (حضرت مرزا بشیر احمد کے بچوں میں میرے میاں وقف تھے۔آگے ہمارے بچوں میں قادر وقف تھا۔خدا کے فضل سے سطوت وقف کو میں ہے۔ہمارے بڑے بیٹے کا بیٹا بھی وقف ہے۔قادر وقف کی وجہ سے بے حد عزیز تھا۔بعض دفعہ میں سوچتی تھی اور ندامت محسوس کرتی تھی کہ مجھے قادر کے وقف پر اتنا فخر کیوں؟ اتنے واقف زندگی خدا کے فضل سے ہیں۔دراصل دُعائیں کی تھیں۔شدید خواہش تھی۔ابھی بیٹے پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کہ دُعائیں شروع کر دی تھیں۔دُعا کی قبولیت کا احساس تھا لگتا تھا۔ایک نعمت مجھے مل گئی ہے۔مجھے بہت اہمیت تھی۔وہ تو میرے گھر کا چودہویں کا چاند تھا۔جو چودہ شہادت کو شہید ہو گیا۔اپنے وقف کی تکمیل کر گیا جیسے چودہویں کا چاند اپنے عروج پر ہوتا ہے۔وہ بھی ہر لحاظ سے اپنے عروج پر تھا نظر دوڑاؤں تو کوئی کمی نہ تھی۔خدا پورے عروج پر اپنے پاس بُلا نا چاہتا تھا۔سو بُلا لیا۔راضی ہیں ہم اسی میں۔۔جب بھی بے قرار ہو کر تنہائی میں آنسو بہنے لگتے ہیں مجھے خود پر اختیار نہیں رہتا بے قراری حد سے گزرنے لگتی ہے لگتا ہے قادر پاس کھڑا اپنی تلی زبان میں کہہ رہا ہے ”امی تو تقریبا تمینی ہے خود دُعائیں کیں پیدا ہونے سے پہلے ہی خدا کو دے دیا خدا سے سرفروشی اور جاں نثاری مانگی اب رو رہی 66