مرزا غلام قادر احمد — Page 250
250 بدنامی کا باعث نہ بنوں اور اس چیز کے لئے دُعا سے کام لیتا تھا بارہ سال کے بچے کے لئے غیر معمولی بات ہے۔ایک خط میں لکھتا ہے چا طاہر (حضرت خلیفہ امسیح الرابع) سے کہہ دیں میں مجلس کا چندہ وغیرہ یہیں پر دے دیتا ہوں۔یہ سب فکرمیں اس کو بارہ سال کی عمر میں تھیں۔کلمه خیر میں کلمہ خیر کی بے حد قائل ہوں۔شائد بچپن میں اماں جان کے سمجھانے کا اثر ہے آپ فرمایا کرتی تھیں کہ بُرا کلمہ زبان سے نہ نکالو بعض دفعہ منہ سے نکالی بات پوری ہو جاتی ہے اگر کوئی بُرا کلمہ مذاق سے بھی منہ سے نکالے مجھے غصہ آجاتا ہے۔زندگی میں کئی ذاتی تجربات بھی کہ سنجیدگی سے دُعا نہیں کی مگر منہ سے نکلی بات پوری ہوئی اور یہ بات میں اب سوچتی ہوں کہ قادر نے میری کئی دُعاؤں کو جذب کیا ہے۔جیسے سیاہی چوس سیاہی کو جذب کر لیتا ہے دوسرا کاغذ نہیں کرتا۔قادر کا بڑا بیٹا پانچ سال کا ہو گیا مگر آگے کوئی بچہ نہیں ہو رہا تھا بڑوں کی خواہش ہوتی ہی ہے کہ نسل بڑھے میں کہتی رہتی، ایک دن ہم سب بیٹھے تھے قادر کہتا امی نچھو کہ بچہ ہونے والا ہے میں بے حد خوش ہوئی اور بے اختیار میرے منہ سے نکلا یا اللہ دو ہو جائیں نصرت کو چونکہ زچگی میں بہت تکلیف ہوتی تھی بیمار رہتی تھی۔وہ بولی نہ ممانی مجھے تو ایک کا سوچ کر ڈر لگ رہا ہے بات آئی گئی ہوگئی۔تقریباً پندرہ دن بعد قادر کا فون آیا اسی وقت شاید اسپتال دکھا کر آئے تھے خوشی بھی آواز میں اور شرمندگی بھی۔کہتا امی ڈاکٹر کو دکھایا ہے دو بچے ہیں مجھے بے حد خوشی ہوئی۔دو کی خواہش بھی تھی اور خدا نے منہ سے نکلی بات