مرزا غلام قادر احمد — Page 233
233 محترمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم: تمہاری جان کا نذرانہ مجھے سرفراز کر گیا ہے ایک پرانا مڑا ٹنڈا کاغذ میرے سامنے ہے۔جو یاد نہیں مگر بارہ پندرہ سال پرانا ہے۔جس پر ایک دُعا لکھی ہے۔جسے میں نے شعروں میں ڈھالنے کی کوشش کی تھی۔مگر میں شاعرہ نہیں ہوں۔جذبات میں بہہ کر کہنے کی کوشش کی تھی مگر کہہ نہ سکی اس دُعا کے دو اشعار درج ہیں :- اک دوسرے سے بڑھ کر ہوں آب و تاب میں چمکیں یہ آسماں پر جیسے کہ ہوں ستارے نسلوں میں ان کی پیدا اہلِ وقار ہوویں التجا ہے میری کر لے قبول پیارے یہ اشعار شاید وزن اور بحر سے خالی ہوں مگر میرے دل کے جذبات سے پُر ہیں جو کچھ میں نے لکھا تھا وہ نثر میں کچھ یوں ہے۔”اے خدا ! ہمیشہ میری دُعا رہی ہے کہ میری گود کے پالے تجھ پر نثار ہوں۔اے خدا ! جب وقت آئے تو فکرِ فردا انہیں سرفروشی سے باز نہ رکھے۔میرے ربّ! تیرا اذن نہ ہو تو خواہشیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں تیرے حکم کے بغیر کوئی تہی دامن کا دامن نہیں بھر سکتا۔میرے خدا ! میری دُعا سن لے اور میرے بیٹے ایک دوسرے سے بڑھ کر آب و تاب میں ہوں۔آسمان پر چاند، ستاروں کی طرح چمکیں۔ان کی نسلوں سے فخر دیار اور اہلِ وقار پیدا ہوں۔میری تو التجا ہی ہے۔قبول کرنے والا تو ہے اے کاتب تقدیر! میرے بچوں