مرزا غلام قادر احمد — Page 211
211 چونکہ تم نے جانتے بوجھتے ہوئے میری ہدایت کو نظر انداز کیا ہے۔دونوں نے بات بنائی کہ اگر ہم زیادہ ہموار نہ بھی کریں گے۔تو بھی فصل اس جگہ سے اچھی ہی ہو گی۔قادر صاحب نے یہ بہانہ نہ مانا اور تنخواہ کے وقت دونوں کے پچھیں پچیس روپے کاٹ لئے گو کہ اس واقعے کے چند ہی دن بعد آپ نے دونوں کو کسی بہانے سے انعام کے طور پر پچاس پچاس روپے دیے اور انہیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ اگر میں کسی پھلدار درخت کو بھی کاٹنے کا کہوں تو تم نے اطاعت کرتے ہوئے اُسے کاٹ دینا ہے کیونکہ میں ہر پہلو مدِ نظر رکھ کر ہی تمہیں کوئی بات کہتا ہوں اس واقعہ کا ملازمین پر بڑا اثر ہوا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ آئندہ سے میاں صاحب جو بھی کہیں تو انہیں صرف اس پر عمل کرنا ہے۔مزارعین کی تربیت کے ساتھ ساتھ آپ کی شفقتوں اور عنایتوں نے محبت کے دیپ روشن کئے اور وہ کام جو عام طور پر بیگار سمجھ کر کیا جاتا ہے محبت اور ایمانداری سے ہونے لگا۔بہت جلد زمین کی فی ایکڑ آمد پہلے کی آمد سے بہت بڑھ گئی۔آپ اس میدان میں بھی سب سے آگے بڑھ گئے۔مہر لال صاحب کا تبصرہ بہت جامع ہے ”اسان بئوں بندے ڈٹھے ھاں پر ایھوجیا نه ڈٹھا ہم نے بہت لوگ دیکھے ہیں مگر ان جیسا شخص نہیں دیکھا۔صرف مہر لال صاحب نے ہی نہیں چشم فلک نے ایسا بندہ کم دیکھا ہوگا جس نے محبت اور اپنائیت سے سب کے دل جیت لئے ہوں۔والدین کی دُعائیں لی ہوں اور خدمت میں عظمت کی بے نظیر مثالیں قائم کی ہوں۔انہیں زمینوں پر کام کرتے ہوئے آپ سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ان خدمت گزاروں نے اپنے محسن کو اجنبیوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے دیکھا تھا اور پھر کبھی نہیں دیکھا۔