مرزا غلام قادر احمد — Page 126
126 تھی۔پہلی تقریب 13 جون 1980ء کو بیت ربوہ میں منعقد ہوئی تھی۔الفضل ربوہ 12 /نومبر 1980ء) حضور نے تفسیر صغیر کا ایک نسخہ بھی اپنے دستخط کے ساتھ عطا فرمایا۔پشاور بورڈ کی طرف سے گولڈ میڈل:۔دوسرا گولڈ میڈل آپ کو صوبہ سرحد کے گورنر کی طرف سے دیا گیا۔اس پُر مسرت تقریب کی یاد قادر کے والد صاحب کی زبان سے سنیے۔قادر جب ایبٹ آباد پبلک اسکول میں تھا تو گاہے بگا ہے اس کی رپورٹس لیتا رہتا تھا جو بہت اچھی ہوتی تھیں۔لیکن یہ اندازہ نہ تھا کہ وہ پورے بورڈ میں اول آئے گا اور اتنی بڑی پوزیشن پائے گا۔میرے خیال میں اُس کے ٹاپ کرنے میں اُس کے اساتذہ کا بہت بڑا دخل ہے۔خدا انہیں جزائے خیر دے۔جب اس نے ٹاپ کیا تو صوبہ سرحد کے گورنر کی طرف سے والدین کے نام با قاعدہ دعوت نامہ آیا تھا۔یہ تقریب پشاور میں منعقد ہوئی تھی جس میں قادر کے ساتھ، میں اور قادر کی امی دونوں گئے تھے۔اس میں صوبہ بھر میں نمایاں پوزیشن لینے والے طلباء اور طالبات کو گولڈ میڈلز اور دیگر انعامات دیے گئے تھے۔بہت شاندار اور یادگار تقریب تھی۔گورنر سرحد کی طرف سے قادر کو گولڈ میڈل پہنایا گیا۔“ یو نیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں تعلیم : قادر نے 1981ء میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں الیکٹریکل انجینئرنگ کے مضامین کے ساتھ داخلہ لیا اور 1986ء میں اس یونیورسٹی سے 1150 نمبروں سے 934 نمبر لے کر ایک بار پھر سابقہ معیار کو