مرزا غلام قادر احمد — Page 107
107 میری جو نیلی نیکر میں تھیں وہ ٹھیک نہیں تھیں، نئی بنوانی پڑیں گی۔اس چیز کی فکر نہ کریں کہ میں نمازیں وغیرہ نہیں پڑھتا۔نماز وغیرہ پڑھتے ہیں۔سلطان بھی بالکل ٹھیک ہے۔الفضل اور تفخیذ کا انتظام کروا دیں کیونکہ یہاں الفضل نہیں آتا۔میں یہاں روتا نہیں۔کیونکہ دل بہت لگا ہوا ہے۔ابا کو سلام کہیں اور سیمیں ، فائزہ کو بھی سلام کہیں۔والسلام قادر احمد میرا پتہ لیاقت ہاؤس، ایبٹ آباد پبلک اسکول، ایبٹ آباد۔اس خط کے آخری جملے کو دوبارہ پڑھیں۔کوئی بھی صاحب دل اس سادہ دل بچے کی آنکھوں سے بے اختیار بننے والے آنسوؤں کی نمی محسوس کر سکتا ہے۔یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ بچے کو جماعت سے کس قدر وابستگی تھی۔تفخیذ کی حد تک تو کہہ سکتے ہیں کہ بچپن میں کہانیوں سے دلچسپی ہوتی ہے۔مگر الفضل کی ضرورت ہونا بڑی بات ہے۔ہم میں سے کتنوں کے بچے اس عمر میں الفضل سے اس قدر وابستہ ہیں کہ پہلے خط میں تنفیذ کے ساتھ 'الفضل' کا مطالبہ کر دیں۔اسی طرح ایک خط میں لکھا۔وو چچا حضور اور بڑی امی کو دُعا کے لئے کہہ دیں کہ یہاں اچھی پوزیشن حاصل کروں اور ہاسٹل میں صحیح طرح رہنے کی توفیق عطا ہو۔“ انہیں پورا احساس تھا کہ خاندان اور ماں باپ کے لئے بد نامی کا باعث نہ بنوں اور اس کے لئے دُعا سے کام لیتے تھے جو اس عمر کے بچے کے لئے غیر معمولی بات ہے۔ایک خط میں لکھا۔