مرزا غلام قادر احمد — Page 106
106 تا کہ صبح جلدی اُٹھا جائے۔“ ہوٹل سے ایک معصوم خط : ربوہ کا ماحول ماں کی گود کی طرح پُر سکون اور آرام دہ ہوتا ہے۔گھر سے کچھ فاصلے پر اسکول، مانوس فضا، دوست ساتھی کلاس فیلو جاننے والے، پڑھانے والے بھی شفیق مہربان پتہ ہی نہیں چلتا اور وقت گزر جاتا ہے۔مگر جب دوسرے شہر میں داخل ہوں اور ہاسٹل میں رہنا ہو تو بالکل مختلف تجربہ ہوتا ہے۔قادر کے لئے یہ آسانی تھی کہ سگا بھائی اور کزن اُس اسکول میں زیر تعلیم تھے تا ہم ننھے سے ذہن پر کیا گزری اسکول میں داخلے کے چند دن بعد لکھے ہوئے امی کے نام خط سے صاف ظاہر ہے۔بسم اللہ الرحمن الرحیم 19-4-74 پیاری امّی میں یہاں بالکل خیریت سے ہوں۔اُمید ہے کہ آپ بھی ربوہ میں خیریت سے ہوں گی۔میرا یہاں کافی دل لگ گیا ہے۔اس لئے کچھ دیر سے خط لکھ رہا ہوں۔آج ہماری کلاس لگی تھی لیکن پڑھائی نہیں ہوئی۔کیونکہ ابھی کتابیں وغیرہ نہیں لی تھیں۔میں نشتر ہاؤس میں نہیں ہوں گا۔سلطان بھی نہیں ہو گا۔ہم حیات ہاؤس میں ہوئے ہیں۔بھائی مودی بھی بالکل ٹھیک ہیں۔انہوں نے گنج کروائی ہوئی ہے۔تا کہ آرام سے پڑھ سکیں اور وہ 23 یا 24 کو شاید کچھ دنوں کے لئے ربوہ آئیں گے۔یہاں کچھ ابھی شرم آ رہی ہے۔اس لئے لمبا خط نہیں لکھ رہا۔وہ بعد میں ہی لکھوں گا۔بھائی مودی نے اسکول کے کچھ اُصول وغیرہ بتا دیے ہیں۔اس لئے کچھ آرام ہو گیا ہے۔