مرزا غلام قادر احمد — Page 443
443 اور دلنواز شخصیت کا مالک تھا۔جو بے شمار خوبیوں اور صلاحیتوں کا مرقع تھا، جنہیں اس نے بے دریغ دین کی خدمت کے لئے استعمال کیا، وہ جس نے وقف کے تقاضوں کو خوب نبھایا۔وہ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بہت ا منکسر المزاج تھا جو صاحب ثروت و دولت ہونے کے باوصف درویش صفت تھا۔جو کم آمیز تھا۔مگر شجاعت اور بہادری کا پتلا تھا۔ایک طرف اس نے جماعت کو کمپیوٹر کے نظام میں داخل کیا اور دوسری طرف واقفین کو کو زبانیں سکھانے کے نظام کا سرخیل تھا۔ہماری اکیسویں صدی ہی نہیں ہر آنے والی صدی اس سے جگمگاتی رہے گی۔وہی ذہین وفطین جس نے تعلیم کے ہر مرحلہ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔مگر وہ علم کا ہی نہیں کردار کا بھی دھنی تھا۔اطاعت گزار، وفا دار اپنے اہل و عیال اور گھر والوں کے لئے فجر سایہ دار۔اب خدا کی رحمت نے اسے اپنے سایہ میں لے لیا ہے۔وہ دنیا کے دکھوں سے آزاد ہوا اور اپنی قوم کو دکھوں سے آزاد کر دیا۔اس کی یادیں ہمیشہ دلوں کو گرماتی رہیں گی۔اور احمدی نوجوان اس کے نقشِ قدم پر چل کر جاں نثاریوں کی نئی داستانیں رقم کرتے رہیں گے۔وہ جس مقصد کے لئے تخلیق کیا گیا تھا وہ اُس نے پورا کر دکھایا۔وہ نفس مطمئنہ خدا کا ہوا، خدا اُس کے بچوں ، بیوی اور دوسرے عزیزوں کا بھی حامی و ناصر ہو اور اس کی برکتیں ہمیں پہنچتی رہیں۔(آمین) زنده باد - غلام قادر - پائندہ باد الوداع غلام قادر - خدا حافظ و ناصر