مرزا غلام قادر احمد — Page 377
377 {1} وہ وہ اُس دن کی بات نرالی تھی جب اشک سے رات نہا لی تھی جو چاند سا چہرہ ڈوب گیا وہ ذات نصیبوں والی تھی پر خطر اندھیرے رستوں میں قندیل وفا کی جلا لی تھی جو ٹوٹ گئی پھل والی اک شجر کی تازہ ڈالی تھی آب رواں بھی کیا برسا ہر کھیت میں ہاں ہریالی تھی جب گھر سے چلے تم ہاتھوں میں ہر شخص کی آنکھ میں لالی تھی اس آل میں جان سے جانے کی وہ طرح بھی تم نے ڈالی تھی ہر اہلِ وفا کو ماریں گے اس دور کی ریت نرالی تھی اللہ کے پیاروں کی قربت اس چاند نے ڈوب کے پالی تھی ترے پیار کی خاطر پیارے نے نئی دنیا یسا لی تھی الفضل ۱۰ جولائی ۱۹۹۹ء) {2} موج صبا کی شوخی رفتار دیکھنا ان موسموں میں دل مرا بیزار دیکھنا ہر شخص یاں ہے در پئے آزار دیکھنا اے چارہ گر یہ آج کے غم خوار دیکھنا